پرویش ورما کے مجرمانہ ہتک عزت کیس میں سوربھ بھاردواج کو تحریری دلائل داخل کرنے کی ہدایت
نئی دہلی، 25 اگست (ہ س)۔ دہلی کی راوز ایونیو کورٹ نے دہلی حکومت کے وزیر پرویش ورما کی جانب سے دائر کردہ مجرمانہ ہتک عزت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی دہلی کے صدر سوربھ بھاردواج کو تحریری دلائل داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایڈیشنل چیف
راؤز ایونیو کورٹ


نئی دہلی، 25 اگست (ہ س)۔

دہلی کی راوز ایونیو کورٹ نے دہلی حکومت کے وزیر پرویش ورما کی جانب سے دائر کردہ مجرمانہ ہتک عزت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی دہلی کے صدر سوربھ بھاردواج کو تحریری دلائل داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نیہا متل نے معاملے کی اگلی سماعت یکم ستمبر کو کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس سے قبل 8 اگست کو عدالت نے سوربھ بھاردواج کو نوٹس جاری کیا تھا۔ پرویش ورما نے 4 جولائی کو اپنا بیان قلمبند کرایا تھا۔ پرویش ورما نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سوربھ بھاردواج نے ان کے اور ان کے خاندان کے وقار کو مجروح کرنے کے لیے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سوربھ بھاردواج نے جھوٹا الزام لگایا کہ پرویش ورما نے بطور وزیر اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے مبینہ ساتھی کو تقریباً پانچ سو کروڑ روپے کے ایک نجی اسکول ٹرسٹ میں ٹرسٹی مقرر کیا۔

پرویش ورما نے مجرمانہ ہتک عزت کی درخواست میں کہا ہے کہ سوربھ بھاردواج نے 15 اور 16 مئی کو انہیں بدنام کرنے کی غرض سے ٹویٹ کیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سوربھ بھاردواج نے یہ جھوٹا الزام لگایا کہ پرویش ورما نے بطور وزیر اپنے عہدے کا غلط استعمال کر کے اپنے مبینہ ساتھی کو تقریباً پانچ سو کروڑ روپے کے نجی اسکول ٹرسٹ میں ٹرسٹی بنایا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوربھ بھاردواج نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پرویش ورما نے اسکول کے ان ملازمین کی حمایت میں کام کیا جو پاکسو کیس میں ملزم ہیں۔ پرویش ورما کا کہنا ہے کہ سوربھ بھاردواج کی یہ پوسٹس معاشرے کی نظروں میں ان کے تشخص کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کے لیے کی گئی تھیں۔

اسی معاملے میں پرویش ورما نے سوربھ بھاردواج کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں دیوانی ہتک عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا ہے۔ ہائی کورٹ میں داخل دیوانی ہتک عزت کی عرضی میں پرویش ورما نے سوربھ بھاردواج سے پانچ کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande