
دہرادون، 25 اگست (ہ س)۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی قومی جنرل باڈی میٹنگ تسمیہ کیمپس، دہرادون میں زیرصدارت پروفیسر مشتاق احمد منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں اسپیشل انوائٹی کے طور پر اے اینڈ یو طبیہ کالج، قرول باغ، نئی دہلی کے سابق پرنسپل پروفیسر محمد ادریس نے شرکت کی، جبکہ کلیدی خطبہ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے پیش کیا۔ اس موقع پر پروفیسر سیّد محمد عارف زیدی (قومی صدر، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس اکیڈمک وِنگ)، پروفیسر نفاست علی انصاری (قومی سکریٹری، آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس اکیڈمک ونگ) کے علاوہ ملک بھر سے اہم شرکائ میں ڈاکٹر شہناز پروین، ایڈووکیٹ شاہ جبیں قاضی، ڈاکٹر خورشید عالم، ڈاکٹر فہیم ملک، ڈاکٹر شکیل احمد ہاپوڑی، ڈاکٹر شمس الدین آزاد، ڈاکٹر فیضان احمد صدیقی، ڈاکٹر محمود احسن صدیقی، پروفیسر سیّد عبدالمجیب، پروفیسر محمد اعظم انصاری، ڈاکٹر محمد کاشف، ڈاکٹر محمد عبدالسلام، ڈاکٹر محمود یونس عثمانی، حکیم مظاہر عالم، ڈاکٹر ثبات احمد تیاگی، ڈاکٹر ظہیر یار خان، ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی، ڈاکٹر شکیل احمد، ڈاکٹر احسان احمد صدیقی، ڈاکٹر ناصر علی، ڈاکٹر مفتی جاوید انور، حکیم محمد مرتضیٰ دہلوی، حکیم رشادالاسلام، ڈاکٹر محمد رفیق، ڈاکٹر ایس کے ایل حمیدالدین، ڈاکٹر محمد ارشد غیاث، حکیم محمد ارشد گنگوہی، ڈاکٹر محمود عالم، ڈاکٹر ذکی الدین، ڈاکٹر مرزا آصف بیگ، حکیم یاسر اے قریشی، ڈاکٹر سیّد منصور جمال، ڈاکٹر محمد دانش، ڈاکٹر بلال رضوی، ڈاکٹر محمد اسلم، ڈاکٹر جی ایس اروڑا، ڈاکٹر محمد یوسف انصاری، ڈاکٹر خبیب احمد، مفتی محمد وصی اللہ، مفتی ضیائ الحق، شارق قریشی، شارق صدیقی، اسرار احمد اُجینی، خالد خان بھوپالی، ذہان احمد، قاری احمد قادری اور محمد عمران قنوجی وغیرہ اہم شخصیات شامل ہیں۔
میٹنگ میں طبیہ کالجوں کے معیار، مسائل اور حل پر بھی سیرحاصل گفتگو ہوئی اور یہ سفارش کی گئی کہ ہر صوبہ میں گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج کا قیام یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر یہ بھی سفارش کی گئی کہ مرکزی حکومت کے آیوش کامپونینٹ میں طب یونانی کو ہر سطح پر ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ میٹنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ طب یونانی کی ترویج و ترقی کا انحصار خاص طور سے طبیہ کالجز پر ہے، اس لیے سبھی پرائیویٹ یونانی میڈیکل کالجز سے وابستہ اسپتالوں کو سرکار کی جانب سے مناسب گرانٹ دی جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais