
وزیراعلی ریونت ریڈی کے امریکی دورے کو منظوری کیوں نہیں ملی؟ مرکز کی وضاحتحیدرآباد ،23 اگست (ہ س)۔
تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کے مجوزہ امریکی دورے کومرکزی حکومت کی جانب سے سیاسی منظوری نہ ملنے کا معاملہ اب سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریونت ریڈی کے امریکی دورے کے پروگرام میں امریکہ کے نائب صدرجے ڈی وینس اورنیویارک کے میئرظہران ممدانی سے ملاقاتیں بھی شامل تھیں، تاہم ان مجوزہ ملاقاتوں کو وزارت خارجہ کے ذریعے سیاسی منظوری کے عمل میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہی ملاقاتیں امریکی دورے کو منظوری نہ ملنے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ تلنگانہ وزیراعلیٰ کے دفترنے امریکہ اوربرطانیہ دونوں کے دوروں کے لیے وزارت خارجہ سے سیاسی منظوری طلب کی تھی۔ مرکزی حکومت نے برطانیہ کے دورے کو منظوری دے دی، تاہم امریکی دورے کے لیے سیاسی اجازت نہیں دی گئی۔ مرکزی حکومت کے ذرائع کاکہنا ہے کہ امریکی دورے کومنظوری نہ دینے کا فیصلہ کسی سیاسی اختلاف یا تلنگانہ حکومت کے خلاف کارروائی کی بنیاد پرنہیں کیا گیا بلکہ یہ فیصلہ مقررہ طریقہ کار اور تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر کیاگیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیرجیسوال نے بھی واضح کیا کہ وزرائے اعلیٰ اوردیگراہم شخصیات کے بیرون ملک دوروں کا سیاسی منظوری کے لیے جائزہ لیاجاتا ہے۔ مجوزہ پروگرام کو متعلقہ عہدے کی نوعیت اوردورے کے مقصد کے مطابق مناسب ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق امریکی دورے کے معاملے میں پیش کیا گیا پروگرام ان تقاضوں کے مطابق نہیں تھا، اسی لیے سیاسی منظوری نہیں دی گئی، جبکہ ریونت ریڈی کے برطانیہ کے دورے کو منظوری دی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کا مؤقف ہے کہ بیرون ملک کسی بھی سرکاری دورے کے دوران اہم سیاسی یا سرکاری شخصیات سے ملاقاتوں پرمشتمل پروگرام کو پہلے وزارت خارجہ کے مقررہ طریقہ کار کے تحت پیش کیا جانا ضروری ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ریونت ریڈی کے دفتر کی جانب سے مجوزہ ملاقاتوں کے لیے متعلقہ امریکی حکام سے رابطہ کیا گیا، تاہم ان ملاقاتوں کے بارے میں وزارت خارجہ سے پیشگی بات چیت نہیں کی گئی۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے اب تک ریونت ریڈی کے مجوزہ امریکی دورے کا مکمل پروگرام عوامی طورپر جاری نہیں کیا گیا ہے۔ فی الحال مرکز نے ریونت ریڈی کے برطانیہ کے دورے کو منظوری دی ہے، جبکہ امریکی دورے کو سیاسی منظوری نہیں ملی۔ تاہم امریکی دورے کے مکمل پروگرام اور مجوزہ ملاقاتوں کی حتمی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق