
حیدرآباد ،23 اگست (ہ س)۔
ایل نینوکے ممکنہ اثرات سے نمٹنے اوردیہی علاقوں کو اس کے لیے تیارکرنے کے مقصد سے تلنگانہ کے رورل ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ میں ایک روزہ ریاستی سطح کا ورکشاپ منعقد کیا گیا۔ اس ورکشاپ میں سینئروزراتمّلا ناگیشورراؤ، سیتکّا اور واکِٹی سری ہری نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں ممکنہ کم بارش سے نمٹنے،آبی تحفظ کومضبوط بنانے، دیہی علاقوں میں روزگارکے مواقع پیداکرنے اورگاؤں کی سطح پرترقیاتی کاموں کے مربوط نفاذ پرتوجہ مرکوز کی گئی۔ اس کے تحت کھیتوں میں فارم پونڈز(کھیتوں کے تالاب) بنانے پر خصوصی زوردیا گیا،تاکہ بارش کے پانی کومحفوظ کرکے خشک سالی کی صورت میں کسانوں کے لیے پانی کی دستیابی یقینی بنائی جاسکے۔ اس مقصد کے لیے زراعت، باغبانی، ماہی پروری اور مویشی پروری کے محکموں کے درمیان باہمی تال میل پربھی تبادلہ خیال کیاگیا۔ پنچایتی راج اورخواتین واطفال بہبود کی وزیرسیتااکا نے کہا کہ گاؤں کو ایل نینو کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری طورپرتیاری شروع کردینی چاہیے اورآئندہ 5 سے 10 برسوں کو مدنظررکھتے ہوئے جامع ترقیاتی منصوبے تیارکرنے چاہئیں۔ انہوں نے گرام پنچایت کی مقامی ترقیاتی منصوبہ بندی کو ہرگاؤں کے مستقبل کا خاکہ بنانے اورترقیاتی سرگرمیوں کے لیے جیو ٹیگنگ کولازمی قراردینے کی ہدایت دی۔انہوں نے آبی تحفظ کوسب سے زیادہ ترجیح دینے پرزوردیا۔ ورکشاپ میں گرام پنچایتوں کے لیے دستیاب مالی وسائل، ’چیوتا‘ پنشن اوردیگر دیہی فلاحی اسکیموں پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں خصوصی چیف سکریٹری داناکشور، آئی اے ایس افسران دِیویا دیوراجن،سریندرموہن، لکشمی، نکھِلا اورمختلف محکموں کے افسران موجود تھے۔ ورکشاپ کے اختتام پرسرپنچوں کے ساتھ خصوصی بات چیت کا بھی اہتمام کیاگیا، جس میں گاؤں کی سطح کے منصوبوں کوآبی تحفظ اورروزگار پیدا کرنے جیسے ٹھوس اقدامات میں تبدیل کرنے پرزوردیا گیا۔
۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق