
کولہاپور، 23 اگست (ہ س)۔ شِرولی ایم آئی ڈی سی کے قریب ناگاؤ گاؤں کی حدود میں واقع پلاسٹک اسکریپ کے ایک گودام میں اتوار کو دوپہرخوفناک آگ لگ گئی۔ آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل دور تک پھیلنے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ آگ پر قابو پانے کے لیے کولہاپور اور آس پاس کے شہروں سے فائر بریگیڈ کی ٹیموں کو طلب کیا گیا۔ابتدائی اندازے کے مطابق آگ میں تقریباً 35 لاکھ روپے مالیت کا اسکریپ اور دیگر سامان جل کر تباہ ہوا ہے، جبکہ عمارت اور دیگر املاک کو ہونے والے نقصان سمیت مجموعی نقصان 50 لاکھ روپے سے زیادہ بتایا جا رہا ہے۔ موقع پر موجود افراد اور ناگاؤ کے گرام ریونیو افسر سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ناگاؤ کے راکیش راجارام کولی اور رگھوناتھ راؤ سمڈولے کے گٹ نمبر 475 میں جاوید مومن اور پرویز رفیق سوبرے کا اسکریپ گودام قائم ہے۔ 23 اگست کو دوپہر تقریباً 1 بج کر 30 منٹ پر اس گودام میں اچانک بھیانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ میں جاوید مومن کے تقریباً 50 سے 55 ٹن پلاسٹک اسکریپ کو نقصان پہنچا، جس کی مالیت تقریباً 20 سے 25 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ اسی طرح پرویز سوبرے کے تقریباً 30 سے 35 ٹن اسکریپ کے جلنے سے تقریباً 8 سے 10 لاکھ روپے کا نقصان ہونے کا اندازہ ہے۔ سہارا ویسٹ پلاسٹک نامی اسکریپ گودام کے علاوہ اس کے قریب واقع ایک کیمیکل کمپنی کا سامان بھی آگ کی زد میں آکر جل گیا۔ آگ اتنی شدید تھی کہ شعلے اور دھوئیں کے بادل آس پاس کے علاقے میں پھیل گئے اور لوگوں میں تشویش پیدا ہوگئی۔ فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کیں۔ آگ لگنے کی اصل وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے