
رانچی، 23 اگست (ہ س)۔ مرکز کی جانب سے پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ترمیمی بل 2026(ایم ایم ڈی آر) کی کانگریس نے مخالفت کی ہے۔ پارٹی کے ریاستی ترجمان اُجول پرکاش تیواری نے اتوار کو جاری ایک پریس بیان میں کہا کہ آلودگی اور بے دخلی کا درد جھارکھنڈ کے عوام برداشت کریں اور پالیسی و ہدایات مرکز طے کرے، یہ صورتحال کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
اُجول پرکاش تیواری نے کہا کہ مرکزی کوئلہ کمپنیوں پر جھارکھنڈ کے پہلے ہی تقریباً 1.32 لاکھ کروڑ روپے واجب الادا ہیں، جو اب بڑھ کر تقریباً 1.60 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اس کے باوجود مرکز اس رقم کی ادائیگی مسلسل روک رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سمیت ریاستی کانگریس کے کئی سینئر رہنما مسلسل اس بقایہ رقم کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، لیکن مرکز پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔
کانگریس ترجمان نے کہا کہ معدنیات پر سیس لگانے کے ریاستوں کے اختیار کو ختم کرنے کا فیصلہ مرکزی حکومت کی ’’آمرانہ ذہنیت‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایم ایم ڈی آر ترمیمی بل منظور کرکے مرکز نے جھارکھنڈ جیسے معدنی وسائل سے مالا مال ریاست کی اقتصادی صورتحال کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ریاست کو حاصل ہونے والی ہزاروں کروڑ روپے کی آمدنی براہ راست متاثر ہوگی اور ریاست کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب مالی وسائل بھی کم ہوسکتے ہیں۔
کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ معدنی وسائل سے متعلق پالیسی سازی میں ریاستوں کے مفادات اور اختیارات کا تحفظ کیا جائے اور جھارکھنڈ کو اس کے واجب الادا مالی وسائل کی ادائیگی فوری طور پر کی جائے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan