متھرا کے گورنمنٹ گرلز پروٹیکشن ہوم میں نوعمر لڑکی کا قتل،جرم چھپانے کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے توڑنے کی کوشش
متھرا، 23 اگست (ہ س)۔ ورنداون کوتوالی علاقے کے چیتنیا وہار میں واقع گورنمنٹ گرلز پروٹیکشن ہوم میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں رہنے والی 14 سالہ لڑکی شیوانی کو اس کے ہی ساتھیوں نے پانی سے بھری بالٹی میں اس کاسر ڈبو کر بے دردی سے ق
قتل


متھرا، 23 اگست (ہ س)۔ ورنداون کوتوالی علاقے کے چیتنیا وہار میں واقع گورنمنٹ گرلز پروٹیکشن ہوم میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہاں رہنے والی 14 سالہ لڑکی شیوانی کو اس کے ہی ساتھیوں نے پانی سے بھری بالٹی میں اس کاسر ڈبو کر بے دردی سے قتل کر دیا ۔ واقعے کے بعد ملزم نے شواہد کو تباہ کرنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کو توڑنے کی بھی کوشش کی۔ پولیس انتظامیہ نے اس معاملے میں سرعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا ہے اور منصفانہ کارروائی کے لیے مجسٹریٹ انکوائری کا حکم دیا ہے۔

گورنمنٹ گرلز پروٹیکشن ہوم کے احاطے میں ہفتے کے روز اس وقت خوف و ہراس پھیل گیا جب وہاں رہنے والی 14 سالہ لڑکی کی لاش برآمد ہوئی۔ واقعے کے بعد پولیس اور انتظامیہ کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ یہ پورا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب پولیس کی ٹیم نے واقعات کے پورے سلسلے کو سمجھنے کے لیے چلڈرن ہوم میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے کی اچھی طرح سے جانچ کی۔

یہ واقعہ چیتنیا وہار میںگورنمنٹ گرلز پروٹیکشن ہوم کے کمرہ نمبر پانچ کے باتھ روم میں پیش آیا۔ یہاں شیوانی (14)جو اصل میں بریلی سے تھی داخل تھی۔ اس کی ماں بھی لکھنو¿ کے گورنمنٹ مینٹلاسپتال می ہے کیونکہ وہ ذہنی طور پر بیمار ہے۔

شیوانی انتظامی تحفظ کے تحت چلڈرن ہوم میں رہ رہی تھی اور مقامی سندیپانی مونی اسکول میں دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔ سنیچر کو جب شیوانی کی لاش باتھ روم میں ملی تو ہلچل مچ گئی۔

گورنمنٹ چلڈرن ہوم کے سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے اسکین کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق، صبح 11 بج کر 8 منٹ پر شیوانی تین نامزد نوعمر لڑکیوں کے ساتھ کمرہ نمبر پانچ کے باتھ روم میں گئی۔ صبح 11 بج کر 30 منٹ پر چوتھی لڑکی نے اندر جھانکا اور واپس بستر پر بیٹھ گئی۔ اس کے بعد 11 بج کر 48 منٹ پر دو نوعمر لڑکیاں باہر آئیں لیکن شیوانی باہر نہیں آئی۔ واقعے کے بعد شام 5 بجے کے قریب ملزم نوعمروں نے کمرے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو توڑنے کی کوشش کی۔ پولیس کی پوچھ گچھ کے دوران بھی وہ پولیس کو گمراہ کرتی رہی۔ جب پولیس کے ذریعے پوسٹ مارٹم کیا گیا تو رپورٹ میں ڈوب کر (دم گھٹنے سے) قتل کی تصدیق ہوئی۔

سنیچر کو چلڈرن ہوم کی انچارج سپرنٹنڈنٹ پرگتی کھرے کی شکایت پر دیگر نوعمر لڑکیوں بشمول پانچ نامزد لڑکیوں کے خلاف قتل، شواہد کو تباہ کرنے، مجرمانہ سازش اور املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ملزم نوعمروں میں سے ایک کا تعلق علی گڑھ سے اور دوسرا پیلیبھیت سے ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں پاکسو ایکٹ کے شکار ہیں اور ایک پر چوری کا الزام بھی ہے۔ ہفتہ کی شام ضلع انتظامیہ اور پولیس (ضلع مجسٹریٹ سی پی سنگھ اور ایس ایس پی شلوک کمار) نے جائے وقوع کا معائنہ کیا تھا۔

ضلع مجسٹریٹ نے ضلع جج کو پورے معاملے کی عدالتی تحقیقات کے لیے لکھا ہے۔ ایس ایس پی شلوک کمار نے کہا کہ ادارے کے سربراہ کی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ لڑکی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس اور انتظامی حکام مسلسل دوسرے قیدیوں اور عملے سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں تاکہ قتل کی اصل وجہ جاننے کے لیے معاملہ کی تہہ تک پہنچ سکیں۔لڑکی کی آخری رسومات پولیس کی موجودگی میں متھرا کے دھرو گھاٹ پر کی گئی ہیں۔

پروبیشن افسر نے بتایا کہ نوعمر لڑکی کی موت کے بعد متھرا میں آخری رسومات ادا کی گئیں۔ بریلی کی 14 سالہ لڑکی کے والد کا کئی سال پہلے انتقال ہو چکا ہے۔ اس کی ماں اس وقت لکھنو¿ کے ناری سنرنکشن کیندر میں ہے ۔ لڑکی کو پہلے رام پور پروٹیکشن ہوم میں داخل کیا گیا تھا۔ اسے 17 جون کو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی، بریلی کے حکم پر متھرا بھیج دیا گیاتھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande