ہریانہ کے سابق اسپیکر کا کھڑگے کو خط، دپیندر ہڈا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
چنڈی گڑھ، 23 اگست (ہ س)۔ پنجاب اسمبلی انتخابات سے قبل ہریانہ کے کانگریس رکن پارلیمنٹ دپیندر ہڈا کے ایک بیان پر شروع ہوا تنازع ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ کانگریس کے آنجہانی رہنما سجن کمار کی موت پر بیان دے کر اپوزیشن کی تنقید کا سامنا کرنے والے
ہریانہ کے سابق اسپیکر کا کھڑگے کو خط، دپیندر ہڈا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ


چنڈی گڑھ، 23 اگست (ہ س)۔ پنجاب اسمبلی انتخابات سے قبل ہریانہ کے کانگریس رکن پارلیمنٹ دپیندر ہڈا کے ایک بیان پر شروع ہوا تنازع ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ کانگریس کے آنجہانی رہنما سجن کمار کی موت پر بیان دے کر اپوزیشن کی تنقید کا سامنا کرنے والے دپیندر ہڈا کے خلاف اب کانگریس کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔

ہریانہ اسمبلی کے سابق اسپیکر کلدیپ شرما کی جانب سے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کو لکھا گیا ایک خط اتوار کو سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے، جس میں دپیندر ہڈا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ پورا معاملہ دپیندر ہڈا کے ایک بیان سے متعلق ہے، جس میں انہوں نے سجن کمار کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ’’پورے ملک میں ان کی مثال دی جاتی ہے۔‘‘

سابق کانگریس رہنما سجن کمار کو 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے ایک معاملے میں عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ان کا 20 اگست کو جیل میں انتقال ہوگیا تھا۔

کلدیپ شرما نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ دپیندر ہڈا کی جانب سے سجن کمار کے لیے ’’مثالی رہنما‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جانے سے ملک، پنجاب، ہریانہ اور بیرون ملک مقیم سکھ برادری میں شدید ناراضی پیدا ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسان تحریک کے بعد سکھ برادری نے کانگریس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا، لیکن اس بیان سے ان کے پرانے زخم دوبارہ تازہ ہوگئے ہیں۔ پنجاب میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات سے عین قبل دیا گیا یہ غیر ذمہ دارانہ اور ناپختہ بیان پارٹی کو بڑا سیاسی نقصان پہنچا سکتا ہے اور اپوزیشن جماعتیں اس کا سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔کلدیپ شرما نے کہا کہ کانگریس پہلے ہی سجن کمار سے خود کو مکمل طور پر الگ کرچکی ہے۔ سکھ برادری کا اعتماد دوبارہ بحال کرنے اور پارٹی کا موقف واضح کرنے کے لیے دپیندر ہڈا کو کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی مستقل رکنیت سے ہٹایا جانا چاہیے۔

اپنا خط سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد کلدیپ شرما نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے یہ خط پارٹی صدر کو لکھا تھا، لیکن یہ میڈیا تک کیسے پہنچا، اس کی انہیں کوئی معلومات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرنال میں سکھ برادری کی بڑی تعداد موجود ہے اور کئی لوگوں نے فون کرکے دپیندر ہڈا کے بیان پر ناراضی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس صدر کو خط لکھا۔ کلدیپ شرما نے امید ظاہر کی کہ پارٹی صدر عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب فیصلہ کریں گے۔

ہریانہ پردیش کانگریس کے صدر راؤ نریندر سنگھ نے تنازع پر کہا کہ رکن پارلیمنٹ کا بیان خاندانی تعلقات کی بنیاد پر دیا گیا بیان ہے اور یہ کانگریس پارٹی کا موقف نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کلدیپ شرما کے خط کی نقل انہیں موصول نہیں ہوئی ہے اور انہیں قومی صدر کو خط بھیجے جانے کی بھی اطلاع نہیں ہے۔

دریں اثنا دپیندر ہڈا نے اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جس لفظ کے استعمال کی بات کی جارہی ہے، انہوں نے وہ لفظ استعمال ہی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ایسی کوئی نیت نہیں تھی۔ہڈا نے الزام لگایا کہ جو لوگ بھائی چارے کی فضا کو خراب کرکے سیاست کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ الفاظ ان کے منہ میں ڈال رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکھ برادری کے ساتھ ان کا ہمیشہ سے بھائی چارہ رہا ہے اور ان کے خاندان کے بھی سکھ برادری کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی سکھ بھائیوں کے مفادات کا معاملہ سامنے آیا، ان کے خاندان نے ہمیشہ ان کے حق میں موقف اختیار کیا۔1984 کے فسادات کا ذکر کرتے ہوئے دپیندر ہڈا نے کہا کہ ان کی پارٹی اور ان کے خاندان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اس واقعے میں بہت بڑا ظلم ہوا تھا اور متاثرین کو انصاف ملنا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande