سابق رکن اسمبلی عرب الاسلام کی کار پر بموں، اینٹوں سے حملہ
کولکاتا ، 23 اگست ( ہ س) : ترنمول کانگریس چھوڑ کر آئی ایس ایف میں شامل ہونے والے سابق رکن اسمبلی عرب الاسلام کی گاڑی پر ہفتہ کی رات مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جب وہ گھر لوٹ رہے تھے تو ان کی کار پر بم اور اینٹیں پھینکی گئیں۔ واقعے
अराबुल हक के गाड़ी पर हुए हमले और अब्दुल का फाइल फोटो


کولکاتا ، 23 اگست ( ہ س) : ترنمول کانگریس چھوڑ کر آئی ایس ایف میں شامل ہونے والے سابق رکن اسمبلی عرب الاسلام کی گاڑی پر ہفتہ کی رات مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ جب وہ گھر لوٹ رہے تھے تو ان کی کار پر بم اور اینٹیں پھینکی گئیں۔ واقعے کے وقت وہ کار میں موجود تھے، لیکن وہ محفوظ رہے۔

اطلاعات کے مطابق ہفتے کی رات بھانگر کے پولرہاٹ پولیس اسٹیشن کے علاقے کے تحت اوریاپارا علاقے سے عرب الاسلام گھر لوٹ رہے تھے۔ اس دوران مبینہ طور پر ان کی کار پر دو بم اور اینٹیں پھینکی گئیں۔ اینٹوں کے ٹکرانے سے گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ عرب الاسلام کا دعوی ہے کہ ان کے ساتھ آنے والے موٹر سائیکل سواروں نے بھی بم کی آواز سنی۔

قابل ذکر ہے کہ جمعہ کو ہی عرب الاسلام نے آئی ایس ایف چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک دن بعد ہی ان کی گاڑی پر حملے نے سیاسی حلقوں میں بہت سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اربول پر حملہ کس نے کیا اور اس کی وجہ کیا تھی؟

عرب الاسلام نے حملے کا براہ راست الزام آئی ایس ایف کے کارکنوں پر عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شام تقریبا ساڑھے چار بجے گھر سے نکلے تھے اور اوریپاڈا میں قبرستان عبور کرنے کے بعد ان کی گاڑی پر حملہ کیا گیا۔ ان کے مطابق ایک بڑا حادثہ ٹل گیا کیونکہ گاڑی تیز رفتار سے چل رہی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گاڑی پر پیچھے سے بم اور اینٹیں پھینکی گئیں اور یہ حملہ آئی ایس ایف کے کارکنوں نے کیا کیونکہ وہ آئی ایس ایف سے نکل چکے تھے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ عرب الاسلام نے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہے۔ اس معاملے میں ابھی تک کسی گرفتاری یا حراست کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

جمعہ کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں عرب الاسلام نے آئی ایس ایف چھوڑنے کی اطلاع دی تھی۔ انہوں نے پارٹی قیادت سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے آئی ایس ایف کے مبینہ آمرانہ رویے اور آمریت پر بھی تنقید کی۔ ایسے میں ان کے استعفے کے اگلے ہی دن ہونے والے مبینہ حملے پر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

--------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande