
حیدرآباد ،23 اگست (ہ س)۔
تلنگانہ کے وزیراعلی اے ریونت ریڈی اپنے متنازعہ اوربے باک بیانات کے باعث ایک بارپھرسیاسی بحث کے مرکزمیں آگئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ وزیراعلی کے بار باردیے جانے والے بیانات کی وجہ سے کانگریس پارٹی کو سیاسی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، جبکہ پارٹی ہائی کمان کی ناراضی کی بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ ریونت ریڈی کے بعض حالیہ بیانات،جن میں کرکٹرمحمد سراج، بے روزگار نوجوانوں اورانجینئروں سے متعلق مبینہ تبصرے شامل ہیں،نے کانگریس حکومت کے لیےغیرضروری تنازعہ پیدا کردیا ہے۔
محمد سراج کے بارے میں ریونت ریڈی کے ایک مبینہ بیان پر بھی کافی تنقید ہوئی،جس میں انہوں نے سراج کودسویں فیل قراردیتے ہوئے ان کی ڈی ایس پی کے طورپرتقرری کاحوالہ دیا تھا۔ اس بیان پرسیاسی اورسوشل میڈیا حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے کو ملا۔
اسی طرح بے روزگارنوجوانوں اورانجینئروں سے متعلق بعض ریمارکس کو بھی اپوزیشن نے نشانہ بنایا ہے۔ مخالف جماعتوں کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں بے روزگاری ایک اہم مسئلہ ہے اور اس طرح کے بیانات حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
اپوزیشن، بالخصوص بی آر ایس، ان بیانات کو کانگریس حکومت کے خلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ بی آر ایس قائدین نے کانگریس کی مرکزی قیادت پر بھی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ دہلی میں دوسروں کو نصیحت کرنے سے قبل تلنگانہ میں اپنی پارٹی کی قیادت کوقابومیں رکھا جائے۔
سیاسی ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان نے ریونت ریڈی سے متعلق بعض تنازعات کانوٹس لیاہے۔ تاہم، پارٹی قیادت کی جانب سے اس بات کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ ہائی کمان نے وزیراعلی کے خلاف کسی قسم کی کارروائی یا سرزنش کی ہے۔سیاسی حکمت عملی سازپرشانت کشورنے بہاراوروہاں کے عوام سے متعلق ریونت ریڈی کے بعض ریمارکس پر سخت ردعمل ظاہرکیا،جس کے بعد سیاسی حلقوں میں مزید بحث شروع ہوگئی۔
تلنگانہ کانگریس کے بعض سینئرقائدین کو تشویش ہے کہ اگروزیراعلی کے متنازعہ بیانات کا سلسلہ جاری رہاتواس کا اثرپارٹی کے مستقبل اورعوامی حمایت پرپڑسکتاہے۔ ان کاماننا ہے کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ریونت ریڈی کا جارحانہ سیاسی انداز کانگریس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا تھا، لیکن وزیراعلی بننے کے بعد ان سے زیادہ سنجیدگی، تحمل اورعہدے کے وقار کے مطابق طرزِعمل کی توقع کی جاتی ہے۔
دوسری جانب بی آرایس نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ریونت ریڈی کے متنازعہ بیانات اور کانگریس حکومت کے فیصلوں کو عوام کے درمیان مسلسل اٹھاتی رہے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازعات جاری رہے تو تلنگانہ میں کانگریس کی سیاسی حکمت عملی اور آئندہ انتخابی امکانات پر اثرپڑسکتا ہے۔ تاہم، کانگریس ہائی کمان کی جانب سے وزیراعلی ریونت ریڈی کے حالیہ بیانات اور ان سے متعلق سیاسی الزامات پر کوئی تفصیلی سرکاری بیان ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔
۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق