
ڈاکٹر گرپریت کور نے کہا: ثبوت پیش کریں، ورنہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیںپٹیالہ، 23 اگست (ہ س)۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی اہلیہ ڈاکٹر گرپریت کور مان نے اتوار کو پہلی مرتبہ عوامی طور پر ان الزامات پر ردعمل ظاہر کیا ہے، جن میں ان پر 5 کروڑ روپے طلب کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر گرپریت کور نے ان الزامات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ الزام لگانے والے اپنے دعووں کو ثابت کریں، بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پٹیالہ میں ایک تیج پروگرام میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر گرپریت کور نے کہا کہ یہ الزامات وزیر اعلیٰ بھگونت مان کو سیاسی طور پر نشانہ بنانے کی کوشش ہیں۔ اس موقع پر پنجاب کے وزیرصحت ڈاکٹر بلبیر سنگھ اور پنجاب ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن راج لالی گل بھی موجود تھیں۔
ڈاکٹر گرپریت کور نے کہا کہ الزام عائد کرنے والوں کو اپنے دعووں کے حق میں ٹھوس ثبوت پیش کرنا ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بغیر ثبوت کے اس طرح کے الزامات لگانا قابل قبول نہیں ہے۔
گزشتہ ہفتے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس رنجیت سنگھ(ریٹائرڈ) نے الزام لگایا تھا کہ ڈاکٹر گرپریت کور نے مبینہ طور پر ایک ایسے کاروباری شخص کی مدد کرنے کے بدلے 5 کروڑ روپے طلب کیے تھے، جو عصمت دری کے ایک معاملے میں ملزم تھا۔سابق جج نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ڈاکٹر گرپریت کور کا ایک قریبی رشتہ دار مذکورہ ملزم کے رابطے میں تھا۔تاہم ان الزامات کی اب تک کسی عدالت میں تصدیق نہیں ہوئی ہے اور ڈاکٹر گرپریت کور نے انہیں مکمل طور پر مسترد کردیا ہے۔
دریں اثنا، قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)نے ان الزامات کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب کے چیف سکریٹری اور پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) سے دو ہفتوں کے اندر کارروائی کی رپورٹ طلب کی ہے۔اس کے بعد وزیر اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے بتایا گیا کہ ڈاکٹر گرپریت کور نے سابق جج جسٹس رنجیت سنگھ کو قانونی نوٹس بھی بھیجا ہے۔معاملے میں الزامات اور جوابی دعووں کے درمیان اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا ان الزامات کے حق میں کوئی قابل اعتماد ثبوت سامنے آتا ہے یا نہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan