وندے ماترم کے معاملے پر رج میدان میں بی جے پی اراکین اسمبلی کا دھرنا، قومی گیت کے احترام کا پیغام دیا
شملہ، 23 اگست (ہ س)۔ ہماچل پردیش اسمبلی میں وندے ماترم کو گانے کو لے کر جاری تنازع کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین اسمبلی نے اتوار کو شملہ کے تاریخی رج میدان میں احتجاجی دھرنا دیا۔ قائد حزب اختلاف اور سابق وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر کی قیادت می
وندے ماترم کے معاملے پر رج میدان میں بی جے پی اراکین اسمبلی کا دھرنا، قومی  گیت کے احترام کا پیغام دیا


شملہ، 23 اگست (ہ س)۔ ہماچل پردیش اسمبلی میں وندے ماترم کو گانے کو لے کر جاری تنازع کے درمیان بھارتیہ جنتا پارٹی کے اراکین اسمبلی نے اتوار کو شملہ کے تاریخی رج میدان میں احتجاجی دھرنا دیا۔ قائد حزب اختلاف اور سابق وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر کی قیادت میں منعقدہ اس پروگرام میں بی جے پی کے اراکین اسمبلی کے علاوہ سیکڑوں کارکنان نے شرکت کی۔مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والے دھرنے کے دوران اجتماعی طور پر وندے ماترم گایا گیا۔ اس موقع پر حب الوطنی کے نغموں اور نعروں سے پورا رج میدان گونجتا رہا۔جے رام ٹھاکر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وندے ماترم کا ہندوستان کی تحریک آزادی اور مجاہدین آزادی کی قربانیوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ آزادی کی جدوجہد کے دوران اس گیت نے لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے اراکین اسمبلی کا مطالبہ تھا کہ اسمبلی میں وندے ماترم مکمل اور احترام کے ساتھ گایا جائے۔جے رام ٹھاکر نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی کی کارروائی شروع ہونے سے قبل تیار کیے گئے پروگرام میں وندے ماترم کا ذکر موجود تھا، لیکن بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔ بی جے پی اراکین اسمبلی نے ایوان کے اندر بھی یہ معاملہ اٹھایا، تاہم ان کے مطابق حکومت نے مثبت رویہ اختیار کرنے کے بجائے تعطل کی صورتحال پیدا ہونے دی۔انہوں نے کانگریس کے 1937 کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔ جے رام ٹھاکر نے کہا کہ اس وقت کانگریس نے قومی تقریبات میں وندے ماترم کے بعض حصوں کو گانے کی سفارش کی تھی۔انہوں نے 6 اپریل 1938 کو جواہر لال نہرو کی جانب سے محمد علی جناح کو لکھے گئے خط کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس خط میں وندے ماترم کے حوالے سے اٹھائے گئے اعتراضات کا ذکر موجود تھا۔

جے رام ٹھاکر نے کہا کہ آزاد ہندوستان میں وندے ماترم کے احترام کا معاملہ کسی سیاسی جماعت کے فیصلے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کا کوئی فیصلہ ملک اور جمہوری اداروں سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ ملک آئین اور جمہوری نظام کے مطابق چلتا ہے۔جے رام ٹھاکر نے بی جے پی اراکین اسمبلی پر قومی ترانے کی توہین کے کانگریس رہنماؤں کے الزامات کو مکمل طور پر غلط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں قومی ترانے کے دوران حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے تمام اراکین احترام کے ساتھ کھڑے ہوئے اور قومی ترانے میں شامل ہوئے۔ اس کے بعد اپوزیشن نے وندے ماترم گانے کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا قانون ساز دھڑا گزشتہ تین دن سے اسمبلی کی مذکورہ کارروائی کی ویڈیو طلب کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں اسمبلی اسپیکر سے ملاقات بھی کی گئی ہے۔ اپوزیشن کے تمام اراکین نے اسمبلی سکریٹری کو تحریری طور پر ویڈیو فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم اب تک ویڈیو دستیاب نہیں کرائی گئی۔جے رام ٹھاکر نے کہا کہ اگر کانگریس رہنماؤں کے الزامات میں حقیقت ہے تو اسمبلی کی مکمل کارروائی کی ویڈیو عوام کے سامنے لائی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس معاملے میں قانونی متبادل پر بھی غور کر رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر ہائی کورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی تنازع پر اپنا پیغام دینے کے لیے بی جے پی کے اراکین اسمبلی نے اسمبلی کی کارروائی نہ ہونے والے دن مہاتما گاندھی کے مجسمے کے سامنے اجتماعی طور پر وندے ماترم گایا اور قومی جذبے کے احترام کا پیغام دیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande