علی گڑھ شاہی جامع مسجد میں 1857 کے شہداء کو خراج عقیدت، مولانا عبدالجلیل سمیت 73 شہداء کو کیا گیا یاد
علی گڑھ، 23 اگست (ہ س)۔ علی گڑھ کی تاریخی شاہی جامع مسجد میں سٹیزن سوسائٹی اور جامع مسجد کمیٹی کے زیرِ اہتمام 1857 کی پہلی جنگِ آزادی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ پروگرام میں علی گڑھ کے ایس ایس پی نیرج کمار جادون بطور مہمانِ خصوصی شریک ہو
خطاب کرتے ہوئے


علی گڑھ، 23 اگست (ہ س)۔

علی گڑھ کی تاریخی شاہی جامع مسجد میں سٹیزن سوسائٹی اور جامع مسجد کمیٹی کے زیرِ اہتمام 1857 کی پہلی جنگِ آزادی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ پروگرام میں علی گڑھ کے ایس ایس پی نیرج کمار جادون بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے، جبکہ صدارت سابق میئرمحمد فرقان نے کی۔ پروگرام میں مولانا عبدالجلیل سمیت 73 شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔مہمانِ خصوصی علی گڑھ ایس ایس پی نیرج کمار جادون نے کہا کہ ان کے لیے یہ فخر اور خوش قسمتی کی بات ہے کہ انہیں شاہی جامع مسجد میں 1857 کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آکر انہیں 1857 کی جنگِ آزادی میں علی گڑھ کے 73 علما کی شرکت اور ان کی شہادت کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ 1857 کی جنگ آزادی کے دوران عام لوگوں نے انگریزوں کے ظلم و ستم اور جبر کا سامنا کیا، جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں نے آزادی کے لیے اپنی جان اور سب کچھ قربان کردیا۔ تاریخ میں ایسی بہت سی قربانیاں اور مظالم درج نہیں ہوسکے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ان واقعات اور شہداء کی خدمات کو حقائق کی بنیاد پر سامنے لایا جائے۔

ایس ایس پی نے کہا کہ تاریخ کو تبدیلی یا انتقام کے جذبے سے نہیں بلکہ اس سے سبق حاصل کرنے کے مقصد سے سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 1857 کے بعد انگریزوں نے ہندو مسلم اتحاد کو کمزور کرنے کے لیے ’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی اپنائی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے باہمی اختلافات کو دور کیا جائے اور متحد ہوکر ملک کی ترقی کے لیے کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد میں طاقت ہے اور جس خاندان، معاشرے، گاؤں یا ملک میں اتحاد قائم رہتا ہے، اسے کوئی طاقت آسانی سے کمزور نہیں کرسکتی۔ سرسید احمد خان سمیت ملک کی دیگر عظیم شخصیات کے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے جدید تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے ذریعے ہی ملک کو مضبوط اور خود کفیل بنایا جاسکتا ہے۔

مہمانِ ذی وقار اے ایم یو اردو اکیڈمی کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر راحت ابرار نے 1857 کی جنگِ آزادی میں علماء کے کردار اور ہندو مسلم اتحاد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آزادی کی جدوجہد میں علماء نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1857 میں ہندوؤں، مسلمانوں اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مل کر انگریزی حکومت کے خلاف جدوجہد کی اور مشترکہ طور پر قربانیاں پیش کیں۔ انہی قربانیوں کے نتیجے میں آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ شاہی جامع مسجد کے امام حضرت مولانا مفتی محمود الحسن قاسمی نے 1857 کی جنگِ آزادی میں علماء کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ علماء نے اس دور میں عوام کو بیدار کرنے، ظلم اور غیر ملکی اقتدار کے خلاف آواز بلند کرنے اور لوگوں کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مولانا عبدالجلیل اور ان کے ساتھیوں کی شہادت اس کی اہم مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کو یاد کرنا اپنی تاریخ اور ذمہ داری کو یاد کرنا ہے۔ نئی نسل کو ان قربانیوں سے واقف کرانا ضروری ہے، تاکہ وہ آزادی کی قیمت، قومی اتحاد اور باہمی بھائی چارے کی اہمیت کو سمجھ سکے۔ مہمانِ ذی وقار اے ایم یو کی استاذہ ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ 1857 کے ان شہداء کو یاد کیا جائے اور نئی نسل کو بھی ان کی خدمات اور قربانیوں سے واقف کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان تاریخی کرداروں کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے، بلکہ نوجوانوں کو بتایا جانا چاہیے کہ آزادی کی جدوجہد میں علی گڑھ کے لوگوں نے بھی اہم کردار ادا کیا اور ملک کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔معروف مصنف ڈاکٹر محمد شاہد صدیقی علیگ نے جنگ آزادی میں علما کا کردار موضع پر اپنا مقالہ تحقیقی مقالہ پیش کیا اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بعض ایسے نکات پر روشنی ڈالی جو ابھی تک مخفی تھے۔

صدارتی خطاب میں سابق میئر محمد فرقان نے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم دن ہے۔ انہوں نے ایس ایس پی نیرج کمار جادون کی شرکت اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کو قابلِ ستائش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد شہر میں بھائی چارہ اور باہمی اتحاد کو مضبوط بنانا اور آزادی کے ان جانبازوں کو ہمیشہ یاد رکھنا ہے، جنہوں نے ملک کے لیے اپنی جان قربان کردی۔جلسہ کے کنوینر اور جامع مسجد کمٹی کے سیکریٹری محمد احمد شیون نے سبھی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ شاہی جامع مسجد کو 1857 کی جدوجہد کی ایک اہم تاریخی گواہ مانا جاتا ہے۔ مقامی تاریخی روایات کے مطابق مسجد کے امام اور خطیب مولانا عبدالجلیل نے انگریزی حکومت کے خلاف لوگوں کو متحد کیا تھا۔ 24 اگست 1857 کو مڈراک کے علاقے میں مولانا عبدالجلیل اور ان کے ساتھیوں کا انگریزی فوج سے مقابلہ ہوا، جس میں مولانا عبدالجلیل سمیت 72 ساتھی شہید ہوئے۔ اس طرح مجموعی طور پر 73 شہداء کا ذکر ملتا ہے۔

ان شہداء کی قبریں شاہی جامع مسجد کے احاطے میں موجود ہیں، جنہیں مقامی طور پر ’گنجِ شہداء‘ کہا جاتا ہے۔ جلسہ کی نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر کنور عارف علی خاں نے کہا کہ ان شہداء کی قربانیاں صرف علی گڑھ کا ورثہ نہیں بلکہ ملک کی مشترکہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس تاریخ کو محفوظ رکھنے اور نئی نسل تک پہنچانے کے لیے اس طرح کے پروگرام مسلسل منعقد کیے جانے چاہئیں۔

اس موقع پرپروفیسر رضا اللہ خاں، پروفیسر شمیم احمد،اسد یار خاں، انجینئر فیروز احمد، ایڈوکیٹ عمر الدین گدی،حاجی محمد سفیان،ڈاکٹر عبید اقبال عاصم،روالکبیر،ذیشان احمد،انجینئر حسین انور،انضار صابری، محمد قمر عالم،اے آر خاں،قاری سید عبداللہ، مولانا عبدالمتعالی،ھاجی دلارے نبی مسلم باری،حاجی عبدالمالک، محمد وصی، شفیع احمد خاں، رضوان احمد سمیت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور شہر سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں موجود رہے۔ پروگرام کی نظامت ڈاکٹرکنور عارف علی خان نے کی، جبکہ حافظ عقیل احمد کی تلاوتِ کلامِ پاک سے جلسہ کا آغاز ہوا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande