
سیتامڑھی، 22 اگست(ہ س)۔ بہار کے سیتامڑھی ضلع کے باجپٹی تھانہ علاقے کے بجیت پور گاؤں میں کوچنگ سے گھر واپس آنے کے بعد تین طالبات کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی۔ انہیں علاج کے لیے مختلف نجی کلینک اور اسپتالوں میں داخل کرایا گیا، جہاں دوران علاج دو طالبات کی موت ہوگئی، جبکہ تیسری طالبہ کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
باجپٹی پی ایچ سی کے ڈاکٹر راجیش کمار نے ابتدائی علامات کی بنیاد پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ طالبات نے ممکنہ طور پر کوئی زہریلی چیز کھائی یا پی ہو سکتی ہے، تاہم موت کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں ہے۔ پولیس اور طبی حکام معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق بجیت پور گاؤں کی تین طالبات جمعہ کو معمول کے مطابق کوچنگ کلاس گئی تھیں۔ کوچنگ سے گھر واپس آنے کے بعد تینوں کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں پہلے کمزوری اور بے چینی محسوس ہوئی، جس کے بعد حالت تیزی سے بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہوگئیں۔اہل خانہ کے مطابق 15 سالہ طالبہ کو علاج کے لیے ایک نجی کلینک میں داخل کرایا گیا، جہاں دوران علاج اس کی موت ہوگئی۔ دوسری 16 سالہ طالبہ کو بہتر علاج کے لیے صدر اسپتال لے جایا جارہا تھا، تاہم راستے میں ہی اس کی حالت مزید خراب ہوگئی اور اس نے دم توڑ دیا۔تیسری طالبہ کو بھی علاج کے لیے نجی کلینک میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ ڈاکٹروں کی نگرانی میں اس کا علاج جاری ہے۔واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مقامی پولیس بھی حرکت میں آگئی اور اہل خانہ و گاؤں والوں سے معلومات حاصل کیں۔ پولیس تینوں طالبات کی اچانک طبیعت خراب ہونے اور دو کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے۔
باجپٹی پی ایچ سی کے ڈاکٹر راجیش کمار نے بتایا کہ طالبات میں ظاہر ہونے والی علامات کی بنیاد پر زہریلی چیز کے استعمال کا شبہ ہے، لیکن فی الحال اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی معائنے اور دیگر ضروری تحقیقات کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آسکتی ہے۔اہل خانہ نے دونوں متوفی طالبات کا پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کردیا۔ پولیس کے مطابق لواحقین کی جانب سے تحریری درخواست جمع کرائے جانے کے بعد دونوں لاشیں اہل خانہ کے حوالے کردی گئیں۔
تینوں طالبات کے کوچنگ سے واپس آنے کے فوراً بعد بیمار ہونے کے باعث کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ پولیس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ طالبات نے کوچنگ کے دوران یا گھر واپس آتے وقت راستے میں کوئی کھانے پینے کی چیز استعمال کی تھی یا نہیں۔تاہم پولیس اور طبی حکام نے فی الحال کسی زہریلی چیز کے استعمال کی تصدیق نہیں کی ہے۔ واقعے کی اصل وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔باجپٹی تھانہ انچارج امرت پال نے بتایا کہ پولیس کو واقعے کی اطلاع اہل خانہ اور گاؤں والوں کی جانب سے دی گئی ہے۔ پولیس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan