
نادیا، 22 اگست(ہ س)۔ مغربی بنگال میں اقتدار کی تبدیلی کو 100 سے زائد دن گزرنے کے باوجود ریاست کی بیشتر پنچایتوں اور میونسپلٹیوں پر ترنمول کانگریس کا کنٹرول برقرار ہے۔ تاہم کئی مقامات پر پنچایت پردھان، کونسلروں اور چیئرمینوں کے استعفوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی کڑی میں نادیا ضلع کی شانتی پور میونسپلٹی میں ایک بڑا سیاسی واقعہ سامنے آیا ہے۔
شانتی پور میونسپلٹی کے ترنمول کانگریس کے 21 کونسلروں نے ایک ساتھ استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس اجتماعی استعفے کے بعد میونسپلٹی بورڈ کے وجود پر بحران پیدا ہوگیا ہے اور شہری خدمات کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
شانتی پور میونسپلٹی میں گزشتہ کچھ عرصے سے شہری سہولیات اور خدمات کو لے کر مسلسل سوالات اٹھ رہے تھے۔ خاص طور پر میونسپلٹی میں کام کرنے والے عارضی صفائی ملازمین کی تنخواہوں کا معاملہ تنازع کا باعث بنا ہوا تھا۔ عارضی ملازمین کا الزام تھا کہ طویل عرصے سے ان کی تنخواہیں بقایا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ انتہائی کم اجرت پر کام کرتے ہیں اور گندگی و بدبو کے درمیان صفائی کا کام انجام دیتے ہیں۔ ایسے میں اگر ان کی معمولی تنخواہ بھی روک دی جائے تو خاندان کا خرچ چلانا مشکل ہوجاتا ہے۔
تنخواہوں کی ادائیگی کے مطالبے کو لے کر صفائی ملازمین نے کئی مرتبہ میونسپلٹی دفتر کے سامنے احتجاج کیا۔ الزام ہے کہ مطالبات پر کوئی حل نہ نکلنے کے بعد ملازمین نے سڑا ہوا کتا اور کچرا میونسپلٹی چیئرمین کے دفتر کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا۔ بعد میں جب چیئرمین دفتر نہیں پہنچے تو صفائی ملازمین نے ان کی رہائش گاہ کے سامنے بھی مظاہرہ کیا۔
اسی دوران شانتی پور میونسپلٹی کے چیئرمین سبرت گھوش اور وائس چیئرمین کوشک پرمانک نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے دو دن بعد اب میونسپلٹی کے 21 ترنمول کونسلروں نے بھی اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔
شانتی پور میونسپلٹی میں مجموعی طور پر 24 وارڈ ہیں۔ ان میں سے 22 وارڈ ترنمول کانگریس کے پاس تھے، جبکہ دو وارڈوں میں بی جے پی کے کونسلر تھے۔ ترنمول کے 22 کونسلروں میں سے ایک کونسلر کا پہلے ہی انتقال ہوچکا ہے۔ ایسے میں 21 ترنمول کونسلروں کے استعفے کے بعد میونسپلٹی بورڈ شدید بحران سے دوچار ہوگیا ہے۔
اس سلسلے میں شانتی پور میونسپلٹی کے کونسلر اور شانتی پور شہر ترنمول کانگریس کے صدر برنداون پرمانک نے کہا کہ دو روز قبل چیئرمین سبرت گھوش اور وائس چیئرمین کوشک پرمانک نے استعفیٰ دیا تھا۔ ان کے تئیں احترام کا اظہار اور ان کے فیصلے کی حمایت کرنے کے لیے تمام کونسلروں نے باہمی مشاورت کے بعد اجتماعی استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔دوسری جانب سابق وائس چیئرمین کوشک پرمانک نے کہا کہ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے ہی میونسپلٹی کی شہری خدمات کو لے کر تنازع کی صورتحال بنی ہوئی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کافی عرصے سے استعفیٰ دینے پر غور کیا جا رہا تھا، لیکن کوشش یہ تھی کہ عوام کو کم از کم ضروری شہری خدمات فراہم ہوتی رہیں۔
اجتماعی استعفوں کے بعد شانتی پور میونسپلٹی کی انتظامی صورتحال نئی پیچیدگی کا شکار ہوگئی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ میونسپلٹی کی ذمہ داری آئندہ کس کے ہاتھ میں جاتی ہے اور صفائی، ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر شہری خدمات سے متعلق بحران کو کس طرح حل کیا جاتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan