این آئی اے عدالت نے پلوامہ حملہ کیس کی ملزمہ کی ضمانت عرضی کو مسترد کیا
جموں, 22 اگست (ہ س): پلوامہ خودکش حملہ کیس میں خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزمہ انشا جان عرف انشا طارق کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد کی بنیاد پر ملزمہ کے خلاف الزامات بادی النظر میں درست معلوم ہوتے ہیں۔ خص
Courts


جموں, 22 اگست (ہ س): پلوامہ خودکش حملہ کیس میں خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزمہ انشا جان عرف انشا طارق کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر موجود مواد کی بنیاد پر ملزمہ کے خلاف الزامات بادی النظر میں درست معلوم ہوتے ہیں۔

خصوصی جج پریم ساگر نے 20 اگست کو جاری اپنے حکم نامے میں کہا کہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی دفعہ 43-ڈی(5) کے تحت ضمانت پر عائد پابندی بھی اس معاملے میں لاگو ہوتی ہے۔

انشا جان کو اس کے والد پیر طارق احمد شاہ کے ہمراہ 3 مارچ 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے ہرکی پورہ گاؤں کی رہائشی ہے اور اس کے خلاف آر پی سی، یو اے پی اے، آرمز ایکٹ اور ایکسپلوزیو سبسٹنسز ایکٹ کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔این آئی اے کی چارج شیٹ کے مطابق انشا جان مبینہ طور پر دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھی اور پاکستانی دہشت گرد محمد عمر فاروق کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی۔ ایجنسی نے الزام لگایا ہے کہ اس نے جیشِ محمد کے دہشت گردوں کو اپنے گھر میں پناہ، کھانا اور دیگر لاجسٹک سہولیات فراہم کیں۔

این آئی اے کے مطابق جنوری 2019 میں عمر فاروق، خودکش حملہ آور عادل احمد ڈار اور سمیر احمد ڈار مبینہ طور پر ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ساتھ انشا جان کے گھر آئے اور کئی دن وہاں قیام کیا۔

تحقیقاتی ایجنسی نے انشا جان اور عمر فاروق کے درمیان ہونے والی واٹس ایپ کالز، وائس نوٹس اور تصاویر کو بھی شواہد کا حصہ بنایا ہے۔ این آئی اے کے مطابق پلوامہ حملے کے خودکش حملہ آور عادل احمد ڈار کی وہ ویڈیو جو حملے کے بعد وائرل ہوئی تھی، مبینہ طور پر انشا جان کے گھر میں ریکارڈ کی گئی تھی۔

دفاع نے طویل حراست، مقدمے کی کارروائی میں تاخیر اور ملزمہ کی طبی حالت کو بنیاد بنا کر ضمانت کی درخواست کی تھی۔ دفاع کے مطابق انشا جان چھ سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہے اور 240 میں سے 49 استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

تاہم این آئی اے نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزمہ کے خلاف سنگین دہشت گردانہ جرم میں ملوث ہونے کے کافی شواہد موجود ہیں۔عدالت نے کہا کہ مقدمے کی کارروائی جاری ہے اور صرف مقدمے میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ رہائی کی صورت میں ملزمہ اہم گواہوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ملزمہ کی طبی حالت کے بارے میں عدالت نے کہا کہ اس کی بیماری ایسی جان لیوا صورتحال نہیں ہے جو ضمانت کی فوری ضرورت پیدا کرے، تاہم جیل حکام کو اسے مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔عدالت نے واضح کیا کہ ضمانت کی درخواست پر فیصلہ دیتے وقت کیے گئے مشاہدات مقدمے کے حتمی میرٹ پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande