کشتواڑ کے چھاترو میں اسقاط حمل کی کوشش کے دوران لڑکی کی موت
جموں, 22 اگست (ہ س)۔ ضلع کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک سرکاری اسکول کی 14 سالہ طالبہ کی مبینہ طور پر اسقاط حمل کی کوشش کے دوران موت ہوگئی۔ پولیس نے طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں اسکول کے استاد خا
Dead body


جموں, 22 اگست (ہ س)۔ ضلع کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک سرکاری اسکول کی 14 سالہ طالبہ کی مبینہ طور پر اسقاط حمل کی کوشش کے دوران موت ہوگئی۔ پولیس نے طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں اسکول کے استاد خالد حسین کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ چیف ایجوکیشن آفیسر نے انہیں معطل کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبہ مبینہ طور پر حاملہ ہوگئی تھی اور اہل خانہ اسے علاج کے لیے پہلے کشتواڑ اور بعد میں ڈوڈہ کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال لے گئے۔

وہاں حمل ختم نہ ہونے کے بعد اسے جموں کی جانب منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم بٹوت کے قریب اس کی حالت بگڑ گئی اور اس نے دم توڑ دیا۔ ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران طالبہ کے پیٹ سے تقریباً چار ماہ کا جنین برآمد ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً دس روز قبل طالبہ کی طبیعت خراب ہونے پر اسے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا تھا، جہاں اس کے حاملہ ہونے کا انکشاف ہوا۔

واقعے کی اطلاع پھیلنے کے بعد چھاترو اور آس پاس کے علاقوں میں شدید غم و غصہ تھا۔

مقامی تاجروں اور طلبہ سمیت لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے ملزم استاد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مقامی تجارتی تنظیموں نے آج چھاترو اور مغل میدان میں کاروباری ادارے بند رکھنے کی اپیل بھی کی ہے۔پولیس نے واقعے کے سلسلے میں مقدمہ درج کرکے ملزم استاد خالد حسین کو گرفتار کرلیا ہے۔ حکام کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو کارروائی کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جلد مکمل کرکے قانون کے مطابق ضروری کارروائی کی جانی چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande