جینت کی حمایت میں اتریں مایاوتی، اکھلیش یادو سے معافی مانگنے کا مطالبہ
لکھنؤ، 22 اگست(ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے رہنما جینت چودھری کے خلاف سماج وادی پارٹی صدر اکھلیش یادو کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مایاوتی نے اکھلیش یادو کے تبصرے کو غیر
جینت کی حمایت میں اتریں مایاوتی، اکھلیش یادو سے معافی مانگنے کا مطالبہ


لکھنؤ، 22 اگست(ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے رہنما جینت چودھری کے خلاف سماج وادی پارٹی صدر اکھلیش یادو کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مایاوتی نے اکھلیش یادو کے تبصرے کو غیر مہذب اور شرمناک قرار دیتے ہوئے ان سے جینت چودھری، آر ایل ڈی اور پورے جاٹ سماج سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔مایاوتی نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اکھلیش یادو کا اپنی سابقہ اتحادی جماعت آر ایل ڈی اور اس کے رہنما کے بارے میں یہ کہنا کہ ’’ہم نے ان کو چونی سے روپیہ بنا دیا ہے‘‘ انتہائی غیر مناسب، ناشائستہ اور شرمناک ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی متکبرانہ اور غیر جمہوری بیان بازی کے لیے اکھلیش یادو کو نہ صرف آر ایل ڈی اور جینت چودھری سے بلکہ چودھری چرن سنگھ کے خاندان کی توہین پر پورے جاٹ سماج سے بھی فوری معافی مانگنی چاہیے۔مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ سماج وادی پارٹی کا سیاسی رویہ مخالف جماعتوں کے ساتھ ساتھ اپنے اتحادیوں کے معاملے میں بھی سیاسی تنگ نظری اور ذات پات کی عصبیت سے متاثر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس طرز سیاست کا فائدہ اکثر بی جے پی کو پہنچا ہے اور سیکولر قوتیں کمزور ہوئی ہیں۔بی ایس پی سربراہ نے ایس پی اور بی ایس پی کے سابقہ اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایس پی کے مبینہ متکبرانہ رویے کے باعث 1993 میں ملائم سنگھ یادو کے ساتھ قائم ہونے والا اتحاد زیادہ عرصہ نہیں چل سکا۔ انہوں نے 2 جون 1995 کے لکھنؤ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس واقعے کا بھی ذکر کیا۔مایاوتی کے مطابق بعد میں اکھلیش یادو کی یقین دہانی پر لوک سبھا انتخابات کے لیے دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد قائم ہوا، لیکن انتخابی نتائج توقعات کے مطابق نہ آنے کے بعد یہ اتحاد بھی ٹوٹ گیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایس پی اتحاد میں اپنا مقصد پورا کرنے کے بعد سیاسی رویہ بدل لیتی ہے اور دیگر جماعتوں کے خلاف غیر مناسب زبان کا استعمال اس کی پرانی روش ہے۔مایاوتی نے اکھلیش یادو کی پی ڈی اے (پسماندہ، دلت اور اقلیت) سیاست پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ایس پی پسماندہ طبقات کے ساتھ ساتھ اقلیتوں اور اعلیٰ ذات کے طبقات، خصوصاً برہمنوں کے مفادات کا بھی حقیقی طور پر خیال نہیں رکھتی۔انہوں نے ایس پی کی سابقہ حکومتوں پر دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور اعلیٰ ذات کے لوگوں کے استحصال اور ظلم و زیادتی کے الزامات عائد کیے۔ مایاوتی نے کہا کہ ایس پی حکومتوں میں غنڈوں، بدمعاشوں اور مافیا عناصر کو فائدہ پہنچا۔بی ایس پی صدر نے اترپردیش کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر عوام سے اپیل کی کہ وہ سماج وادی پارٹی کی مبینہ تنگ نظر اور ذات پات پر مبنی سیاست سے ہوشیار رہیں اور اسے دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande