
جموں, 22 اگست (ہ س)۔
گورنمنٹ ڈگری کالج ٹھاٹھری کی عمارت کی تعمیر کا عملی کام شروع کرنے کے مطالبے کو لے کر جاری غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ہفتہ کو تیسرے روز میں داخل ہوگئی۔ احتجاجی مقام پر عوامی نمائندوں، سماجی کارکنوں، سول سوسائٹی ارکان، مقامی باشندوں اور طلبہ کی آمد سے تحریک کو مزید حمایت حاصل ہوئی۔
بھوک ہڑتال پر بیٹھے منوج کمار، راج کمار، ناصر عالم اور فیصل ڈار نے اپنا احتجاج جاری رکھتے ہوئے مطالبہ کیا کہ طویل عرصے سے زیر التوا جی ڈی سی ٹھاٹھری کیمپس کی تعمیر کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے۔ مظاہرین نے کہا کہ زمین پر تعمیراتی کام شروع ہونے تک ان کی پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔
جامع مسجد کمیٹی ٹھاٹھری کے صدر عبدالمجید بٹ نے احتجاجی مقام پر پہنچ کر بھوک ہڑتالیوں سے ملاقات کی اور ان کے مطالبے کی حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ مستقل کالج کیمپس کا مطالبہ طلبہ اور عوام کا جائز حق ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ معاملے کو مزید طول نہ دیا جائے اور تعمیراتی کام جلد شروع کیا جائے۔
اس دوران متعدد سماجی کارکنوں، سول سوسائٹی ارکان اور مقامی لوگوں نے بھی احتجاجی مقام کا دورہ کرکے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے نوجوانوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کالج کے مستقل کیمپس کی تعمیر ناگزیر ہے۔کالج کے طلبہ نے بھی بھوک ہڑتالیوں سے ملاقات کی اور کیمپس کی تعمیر میں طویل تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ طلبہ نے کہا کہ وہ کئی برس سے مناسب کلاس رومز، لیبارٹری، لائبریری اور مستقل تعلیمی ماحول کے منتظر ہیں۔
مظاہرین نے کہا کہ ان کی جدوجہد کا مقصد صرف جی ڈی سی ٹھٹھری کی عمارت کی تعمیر کا عملی آغاز ہے اور وہ اس مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر تعمیراتی کام شروع کیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر