کے جی ایم یو میں ایم بی بی ایس انٹرن بھوک ہڑتال پر، وظیفہ بڑھانے کا مطالبہ
لکھنؤ، 22 اگست (ہ س)۔ کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) میں کام کرنے والے ایم بی بی ایس انٹرن ڈاکٹروں نے وظیفہ بڑھانے کے مطالبے کو لے کر ہفتہ کو کے جی ایم یو کے داخلی دروازے پر احتجاج کیا۔ اس کے بعد 8 ایم بی بی ایس انٹرن بھوک ہڑتال پر بیٹ
کے جی ایم یو میں ایم بی بی ایس انٹرن بھوک ہڑتال پر، وظیفہ بڑھانے کا مطالبہ


لکھنؤ، 22 اگست (ہ س)۔

کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) میں کام کرنے والے ایم بی بی ایس انٹرن ڈاکٹروں نے وظیفہ بڑھانے کے مطالبے کو لے کر ہفتہ کو کے جی ایم یو کے داخلی دروازے پر احتجاج کیا۔ اس کے بعد 8 ایم بی بی ایس انٹرن بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے ہیں۔

انٹرن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اتر پردیش میں ایم بی بی ایس انٹرن کو ملنے والا 12 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ کئی ریاستوں کے مقابلے میں کافی کم ہے، جبکہ انٹرن ہی او پی ڈی سے لے کر وارڈ، ایمرجنسی، نائٹ ڈیوٹی اور دیگر طبی و کلینیکل کام انجام دیتے ہیں۔ انٹرن ڈاکٹروں کا مطالبہ ہے کہ ماہانہ وظیفہ کم از کم 30 ہزار روپے کیا جائے۔

کے جی ایم یو کے ترجمان ڈاکٹر کے۔ کے۔ سنگھ نے انٹرن ڈاکٹروں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات حکومت تک پہنچائے جائیں گے۔ انٹرن ڈاکٹروں نے کہا کہ جب تک حکومت کی جانب سے وظیفہ بڑھانے کی تحریری یقین دہانی نہیں مل جاتی، تب تک احتجاج جاری رہے گا۔

پروین کمار نے بتایا کہ ایم بی بی ایس انٹرن کا نمائندہ وفد وظیفے میں اضافے کے مطالبے کو لے کر اب تک ریاست کے مختلف وزراء اور متعلقہ افسران سے ملاقات کر چکا ہے۔ نمائندہ وفد نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے سامنے بھی اپنا مطالبہ رکھا ہے۔ اس کے باوجود ابھی تک وظیفے میں متوقع اضافے کے حوالے سے کوئی ٹھوس فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔

انٹرن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کا احترام کرتے ہیں اور مسلسل اپنے مطالبات جمہوری اور پ±رامن طریقے سے اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کا مقصد حکومت کے سامنے اپنی حقیقی معاشی اور کام سے متعلق صورتحال رکھنا اور باعزت وظیفہ یقینی بنانا ہے۔

انٹرن ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے مثبت اور ٹھوس فیصلہ نہیں آتا ہے تو احتجاج کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مظاہرہ کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande