
۔ قرآن خوانی اور دعا کے بعد رضوان حیدر نے شہنائی بجائی
وارانسی، 21 اگست (ہ س)۔ شہنائی کے شہنشاہ بھارت رتن استاد بسم اللہ خان کی 20ویں برسی جمعہ کو اتر پردیش کے وارانسی میں واقع درگاہ فاطمین میں منائی گئی۔ استاد بسم اللہ خان چیریٹیبل ٹرسٹ کی پہل پر اہل خانہ اور مداحوں نے درگاہ فاطمین میں استاد کے مزار پر حاضری دی۔ قبر پر گلہائے عقیدت نذر کرنے کے بعد قرآن خوانی اور دعائے مغفرت بھی کی گئی۔
اس کے بعد استاد کے صاحبزادوں آفاق حیدر اور رضوان حیدر نے شہنائی بجا کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ بلال علی نے دکّڑ بجا کر اپنے دادا کی روایت کی پیروی کی۔ اس دوران قریبی رشتہ دار پرمود ورما اور پروگرام کوآرڈینیٹر شکیل احمد جادوگر بھی موجود تھے۔ قابل ذکر ہے کہ شہنائی کے شہنشاہ نے 21 اگست 2006 کو آخری سانس لی۔ استاد مرحوم کے چاہنے والے اور اہل خانہ سال میں دو بار ان کے یوم پیدائش اور یوم وفات پر ان کی قبر پر جاتے ہیں اور فاتحہ خوانی کرکے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
شکیل احمد جادوگر نے بتایا کہ بسم اللہ خان، جو 21 مارچ 1916 کو بہار کے شہر ڈومراو¿ں میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام کمرالدین تھا۔ وہ چھ سال کی عمر میں وارانسی آ گئے اور اپنے ماموں علی بخش 'ولایتی' کی سرپرستی میں شہنائی سیکھنے لگے۔ جب ہندوستان نے 15 اگست 1947 کو آزادی حاصل کی تو نئے ہندوستان کا استقبال لال قلعہ کی فصیل سے استاد کی شہنائی کی گونجتی ہوئی آواز سے ہوا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد