
ممبئی ، 21 اگست (ہ س) ریاستی قبائلی ترقی کے وزیر ڈاکٹر اشوک اوئیکے نے کہا ہے کہ قبائلی طلبہ کے تعلیمی مفادات حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔ سرکاری ہاسٹل میں داخلے کے مطالبے کو لے کر احتجاج کرنے والے نوجوانوں اور طالبات کو اعتماد میں لے کر گزشتہ 2 دن کے دوران ان کے ساتھ تفصیلی اور مثبت بات چیت کی گئی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے غریب قبائلی طلبہ کی تعلیم صرف ہاسٹل میں داخلہ نہ ملنے کی وجہ سے متاثر نہیں ہونے دی جائے گی اور قبائلی ترقی محکمہ طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔ ڈاکٹر اشوک اوئیکے نے بتایا کہ قبائلی ترقی محکمہ کی جانب سے ریاست میں 490 سرکاری ہاسٹل چلائے جارہے ہیں۔ ان ہاسٹل میں رہ کر ہر سال تقریباً 58 ہزار سے 60 ہزار طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ہاسٹل داخلہ عمل کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے 14 اگست 2026 کو جاری کیے گئے حکومتی فیصلے کے تحت طلبہ کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری تعاون فراہم کرنے کا موقف محکمہ نے اختیار کیا ہے۔ قبائلی وزیر نے بتایا کہ ہاسٹل میں داخلے کے لیے عمر کی حد کم از کم 30 سال کیے جانے کے مطالبے پر بھی مثبت انداز میں غور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال نئے حکومتی فیصلے کے نفاذ کے باعث 30 سال کی عمر مکمل کرچکے طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو، اس کے لیے ایسے طلبہ کو سویم اسکیم کی طرز پر مالی امداد فراہم کرنے کے لیے قبائلی ترقی محکمہ تعاون کرے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پی ایچ ڈی، ایم فل، پولی ٹیکنک، انجینئرنگ، میڈیکل تعلیم اور دیگر مختلف کورسز میں زیر تعلیم 30 سال سے زائد عمر کے طلبہ کو اگر سرکاری ہاسٹل میں داخلہ نہیں ملتا تو انہیں سویم اسکیم کا فائدہ دینے کا موقف اختیار کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اشوک اوئیکے نے کہا کہ طلبہ کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل کو حکومت حساسیت کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ سے اپنا احتجاج واپس لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ دیہی اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے غریب قبائلی طلبہ کی تعلیم کسی بھی صورت میں رکنی نہیں چاہیے۔ حکومت طلبہ کو اعتماد میں لے کر ان کے تعلیمی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے مثبت اور منصفانہ حل تلاش کرنے کے موقف پر قائم ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے