
طلباء کو2لاکھ ایجوکیشن فائنانس کارپوریشن کے ذریعے اور2 لاکھ بینکوں کے ذریعہ ملیں گےپٹنہ، 21 اگست(ہ س)۔بہار اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم کے تحت طلبہ کے لیے تعلیمی قرض کی رقم میں کمی کی اطلاعات حقیقتاً غلط ہیں۔ ریاستی حکومت نے طلباء کے لیے اعلیٰ تعلیم کے لیے مالی امداد کا دائرہ مزید بڑھا دیا ہے۔ہائیر ایجوکیشن محکمہ کے سکریٹری کے مطابق اب بہار اسٹیٹ ایجوکیشن فائنانس کارپوریشن کے ذریعے 2 لاکھ روپے تک کے تعلیمی قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ وہیں 2لاکھ سے 4لاکھ تک کی مالی مدد شیڈولڈ کمرشل بینکوں کے ذریعے مہیا کرائے جائیں گے۔ اس سے قبل، 4 لاکھ روپے تک کے قرضے مکمل طور پر بہار اسٹیٹ ایجوکیشن فائنانس کارپوریشن کے ذریعے فراہم کیے جاتے تھے۔بہار اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم کو پروزیر اعظم ہائر ایجوکیشن پروتساہن اسیکم ، پی ایم ودیالکشمی پورٹل، اور بینکوں سے جوڑنے کا مقصد زیادہ سے زیادہ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے ادارہ جاتی مالی مدد فراہم کرنا ہے۔اس کے ساتھ ہی طلباء کو پی ایم ودیالکشمی اسکیم کے ذریعے 10 لاکھ تک کا تعلیمی قرض فراہم کیا جائے گا۔اس طرح اعلیٰ تعلیم کے لیے طلبا کو پہلے کی نسبت مالی مدد کے اب زیادہ متبادل فراہم کرائے گیے ہیں۔مالی سال 2025-26 میں بہار اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم کے تحت 886 کروڑ روپے کے اخراجات کو منظوری دی گئی۔ رواں مالی سال 2026-27 میں 950 کروڑ روپے کے اخراجات کو منظوری دی گئی ہے۔ اس طرح، پچھلے مالی سال کے مقابلے موجودہ مالی سال میں اسکیم کے لیے اضافی 64 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔اعداد و شمار سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بہار اسٹوڈنٹ کریڈٹ کارڈ اسکیم کے تحت مالی امداد کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے، کم نہیں ہوا ہے۔حکومت کا مقصد طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے آسان، جامع اور ادارہ جاتی مالی امداد فراہم کرنا ہے، اس بات کو یقینی بنانا کہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اس سے مستفید ہوں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan