
عدالتوں کو قانونی ڈھانچے، پس پشت اکثریتی سوچ کے حامل مقاصد اور غلط استعمال کا جلد جائزہ لینا چاہیے۔ مولانا محمود اسعد مدنی
نئی دہلی 21 اگست (ہ س )۔
جمعیة علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2026 کے نافذ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کی متعدد دفعات شہریوں کی آزادیِ ضمیر، مذہبی آزادی، پرائیویسی اور شخصی خود اختیاری کے آئینی تحفظات سے متصادم ہیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ بھارت کی طاقت اس کی گوناگوں مذہبی اور تہذیبی شناخت میں ہے۔ آئین میں دی گئی مذہبی آزادی ہر شہری کے لیے ہے۔ اگر کوئی شہری اپنے مذہب کا آزادانہ انتخاب نہیں کر سکتا تو آئین کی دفعہ 25 بے معنی ہوجاتی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ مہاراشٹر نے اس قانون کے ذریعے اتر پردیش، گجرات اور مدھیہ پردیش ماڈل کو اختیار کیا ہے جنہیں جمعیةعلماء ہندپہلے ہی سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کر چکی ہے۔ ہمارا بنیادی موقف یہ ہے کہ (Allurement) اور (Fraudulent) جیسی مبہم اصطلاحات کو قانون کا حصہ بنانے کے نتیجے میں مذہب کی پ±رامن تبلیغ کو بھی جرم کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔ اسی طرح اہل ایمان کےلیے اخروی فلاح و نجات کی تعلیم کو بھی ’لالچ ‘کے زمرے میں رکھا گیا ہے جوآئین ہند کی دفعہ ۲۵ میں حاصل ’حق تبلیغ ‘ کو برا ہ راست کالعدم کردیتا ہے۔ نیز تجربے سے یہ ثابت ہے کہ اس قانون کی آڑ میں اندھا دھند لوگوں کو جیلوں میں بند جارہا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کو یہ آئینی اختیار حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی شہری کے نجی ضمیر اور مذہبی انتخاب کی نگراں اور محتسب بن جائے۔
گزشتہ سال سپریم کورٹ نے پہلے بھی اس امر پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ مذہب کی تبدیلی سے قبل لازمی اعلان، پولیس انکوائری اور ذاتی معلومات کو منظرِ عام پر لانے کے جیسی شرائط فرد کی شخصی آزادی پر غیر ضروری اور غیر معمولی بوجھ عائد کرتی ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں تبدیلی مذہب مخالف قوانین کے تجربے کی روشنی میں عدالتوں اور جمہوری اداروں کو صرف ان قوانین کے بیان کردہ مقاصد ہی نہیں بلکہ ان کے قانونی ڈھانچے، پسِ پشت اکثریتی سوچ کے حامل مقاصد اور ہورہے غلط استعمال کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
مولانا مدنی نے واضح کیا کہ جمعیة علماء ہند کسی بھی ایسی حقیقی کوشش کی مخالف نہیں ہے جس کا مقصد جبر، دھوکہ دہی یا جبری تبدیلی مذہب کو روکنا ہو، لیکن مذہبی آزادی کے تحفظ کے نام پر بنایا گیا کوئی قانون خود اسی آزادی کو محدود کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا،نیز اسے ایک مخصوص کمیونٹی کے خلاف سزا کا بھی ہتھیار نہیں بنایا جاسکتا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais