
مہوبا، 21 اگست (ہ س)۔ اتر پردیش کے مہوبا ضلع میں سڑک پر احتجاج کرنے والے اسکولی طلبہ، جن میں جین الفا نسل کے بچے بھی شامل تھے، کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور نامناسب رویے کے معاملے میں پولیس سپرنٹنڈنٹ ششانک سنگھ نے سخت کارروائی کی ہے۔ ایس پی نے صدر کوتوالی کے انچارج انسپکٹر سمیت چار پولیس اہلکاروں کو لائن حاضر کردیا۔ پولیس افسر کی کارروائی کے بعد محکمہ پولیس میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ایس پی نے واضح کیا ہے کہ عام شہریوں اور خاص طور پر بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدسلوکی برداشت نہیں کی جائے گی۔واقعہ کبرئی ترقیاتی بلاک کے رائپورہ کلاں گاؤں سمیت مختلف علاقوں کے اسکولوں کے طلبہ کے احتجاج سے متعلق ہے۔ طلبہ نے سڑک کی خراب حالت اور جگہ جگہ پانی جمع ہونے کے مسئلے کے خلاف بدھ کو جھانسی-مرزا پور قومی شاہراہ پر جام لگا دیا تھا۔اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور طلبہ کو سڑک سے ہٹاتے ہوئے ٹریفک بحال کرائی۔ تاہم بعد میں طلبہ نے پولیس اہلکاروں پر دھمکانے اور ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنے کے الزامات عائد کیے۔ جمعرات کو ضلع مجسٹریٹ غزل بھاردواج اور پولیس سپرنٹنڈنٹ ششانک سنگھ نے گاؤں پہنچ کر چوپال لگائی۔ دونوں افسران نے اسکولی بچوں اور مقامی باشندوں سے براہ راست بات چیت کی اور ان کے مسائل تفصیل سے سنے۔طلبہ نے پولیس کارروائی کے دوران مبینہ بدسلوکی اور دھمکانے کی شکایت بھی افسران کے سامنے رکھی۔ ایس پی نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی تھی۔ایس پی ششانک سنگھ نے جمعرات کی دیر رات کارروائی کرتے ہوئے صدر کوتوالی کے انچارج انسپکٹر منیش کمار پانڈے، ہیڈ کانسٹیبل اوماشنکر شکلا، ارون کمار اور ابھیشیک پٹیریا کو لائن حاضر کردیا۔ایس پی نے کہا کہ پولیس کا رویہ عام شہریوں کے ساتھ احترام اور ذمہ داری پر مبنی ہونا چاہیے۔ انہوں نے خاص طور پر بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدسلوکی کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں سخت کارروائی کی جائے گی۔پولیس سپرنٹنڈنٹ کی اس کارروائی کے بعد محکمہ پولیس میں ہلچل ہے اور اہلکاروں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ عوام، بالخصوص اسکولی بچوں کے ساتھ نامناسب سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan