
حیدرآباد ،21 اگست (ہ س)۔ تلنگانہ اسٹیٹ جوڈیشل اکیڈمی نے تلنگانہ پولیس کے اشتراک سے’’نئے فوجداری قوانین: ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے فوجداری نظامِ انصاف کو مضبوط بنانا‘ کے موضوع پراپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ اس کانفرنس میں عدلیہ، پولیس، جیل، استغاثہ، فارنسک، صحت، این آئی سی اوراین سی آر بی کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پرلایا گیا، تاکہ بی این ایس، بی این ایس ایس اوربی ایس اے کے ڈیجیٹل نفاذ کومزید مضبوط بنایا جاسکے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اپریش کمار سنگھ نے کانفرنس کا افتتاح کیا۔ ہائبرڈ طریقے سے منعقدہ اس کانفرنس میں ریاست بھرسے تقریباً 1,200 عدالتی افسران اورپولیس،استغاثہ، جیل، فارنسک اوردیگر محکموں کے اہلکاروں نے شرکت کی۔ جسٹس اپریش کمارسنگھ نے اداروں کے درمیان تعاون پر زوردیتے ہوئے کہا کہ ’انصاف ان اداروں کی مشترکہ کامیابی ہے جو باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ فوجداری نظامِ انصاف میں ایف آئی آر درج کرنے، تفتیش، فارنسک جانچ، استغاثہ اورعدالتی فیصلے تک ایک مکمل سلسلہ شامل ہے، اس لیے نئے قوانین کے تحت باہمی رابطہ اور ٹیکنالوجی کا انضمام انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے منصفانہ، مؤثراورقابلِ رسائی نظامِ انصاف پرعوام کااعتماد قائم کرنے کے لیے اداروں کے درمیان مستقل تعاون پرزوردیا۔ تلنگانہ اسٹیٹ جوڈیشل اکیڈمی کی صدر جسٹس موشومی بھٹاچاریہ نے بہترتال میل اورڈیجیٹل خواندگی کی ضرورت پرزوردیا۔انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کوبارباردرج کرنا، نامکمل معلومات اورغلط کوڈنگ تاخیرکی اہم وجوہات ہیں۔انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ کام کے طریقۂ کار کو آسان بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کریں اور صلاحیت سازی پر زیادہ توجہ دیں۔ ڈی جی پی سی وی آنند نے کہاکہ نئے فوجداری قوانین شہری مرکزیت پرمبنی انصاف،سائنسی تفتیش، ڈیجیٹل شواہد اور وقت مقررہ کے اندر کارروائی کی جانب ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں۔
۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق