گوپال گنج تھانے میں رشوت کا معاملہ : ایس ایچ او اور 4 دیگر رشوت لیتے گرفتار
گوپال گنج،21اگست(ہ س)۔ گوپال گنج پولیس نے اپنی ہی پولیس فورس کے خلاف کارروائی کی ہے اور یادوپور تھانے کے ایس ایچ او اور سب انسپکٹر انل رام سمیت چار افراد کو مبینہ طور پر 1.30 لاکھ روپے کی رشوت لینے اور غیر قانونی طور پر پانچ افراد کو تقریباً 36 گھ
گوپال گنج تھانے میں رشوت کا معاملہ : ایس ایچ او اور 4 دیگر رشوت لیتے گرفتار


گوپال گنج،21اگست(ہ س)۔ گوپال گنج پولیس نے اپنی ہی پولیس فورس کے خلاف کارروائی کی ہے اور یادوپور تھانے کے ایس ایچ او اور سب انسپکٹر انل رام سمیت چار افراد کو مبینہ طور پر 1.30 لاکھ روپے کی رشوت لینے اور غیر قانونی طور پر پانچ افراد کو تقریباً 36 گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ گرفتار ملزمین میں دلال راجو یادو، تھانہ ڈرائیور راکیش کمار اور چوکیدار مہنت کمار یادو شامل ہیں۔ زیر حراست پانچ افراد میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔ گوپال گنج کے ایس پی ونے تیواری نے معاملے کا علم ہونے کے بعد تحقیقات کا حکم دیا۔ تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر ایس ایچ او سمیت چار دیگر ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا۔

ایس پی ونے تیواری نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں 16 اگست کو معاملہ کے بارے میں ایک اطلاع ملی تھی۔ جس کے بعد ڈی ایس پی (ہیڈ کوارٹر) کو پورے معاملے کی تحقیقات کا کام سونپا گیا۔ دوران تفتیش متعلقہ افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے اور دستیاب شواہد کی جانچ پڑتال کی گئی۔ ڈی ایس پی نے 18 اگست کو اپنی تحقیقاتی رپورٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو پیش کی جس کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ ونے تیواری کے مطابق 8 جولائی کو پولیس کی ایک ٹیم نے گانجہ رکھنے کے الزام میں یادو پور علاقے میں چھاپہ ماری کی ۔ اس چھاپہ ماری کے دوران ایک خاتون، اس کی نابالغ بیٹی اور تین آدمی جو بیتیا سے مویشی خریدنے آئے تھے کو بھی تھانے لایا گیا۔ ان پانچوں پر مبینہ طور پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ پوچھ گچھ کے بعد پانچوں افراد اور چرس معاملہ کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نہیں پایا گیا۔ اس کے باوجود انہیں تقریباً 36 گھنٹے تک ایف آئی آر درج کیے بغیر یا کسی قانونی کارروائی کے بغیر تھانے میں رکھا گیا۔ پولیس کے مطابق تھانہ ڈائری میں ان کی حراست سے متعلق کوئی اندراج نہیں کیا گیا۔

تحقیقات میں مبینہ تاوان کے سنگین شواہد بھی سامنے آئے۔ الزام ہے کہ حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کے بدلے رقم کا مطالبہ کیا گیا اور انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ پولیس کے مطابق خاتون اور اس کی نابالغ بیٹی کو چھوڑنے کے لیے چوکیدار مہنت یادو کے ذریعے مبینہ طور پر 75,000 روپے لیے گئے۔ ایک اور شخص پر الزام ہے کہ اس نے اسے معاملے سے باہر رکھنے کے لیے 55,000 روپے لیے۔ اس سے رشوت کی کل رقم 1.30 لاکھ روپے ہو جاتی ہے۔

تفتیش کے دوران پولیس نے تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ پانچوں افراد 8 اور 9 جولائی کے درمیان تقریباً 36 گھنٹے تھانہ پر موجود تھے۔ موبائل فون کے شواہد سے اس وقت کے ایس ایچ او، انل رام اور دلال کے درمیان بار بار بات چیت کا انکشاف ہوا۔ تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دلال اور چوکیدار کے ذریعے معاملہ سے متعلق گواہوں کو دھمکانے اور متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر ملزمین کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ کے مطابق چاروں ملزمین نے دوران تفتیش اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ انل رام اور چوکیدار مہنت کمار یادو کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande