
لکھنو، 02 اگست (ہ س)۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے سابق راجیہ سبھا ممبر اشوک سدھارتھ اور پارٹی کوآرڈینیٹر رندھیر سنگھ بینیوال کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور پارٹی کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کے الزام میں فوری طور پر پارٹی سے نکال دیا ہے۔ اشوک سدھارتھ بی ایس پی سربراہ مایاوتی کے قریبی ساتھی اور پارٹی کے سینئر لیڈر آکاش آنند کے سسر ہیں۔
اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری کردہ پوسٹوں کی ایک سیریز میں مایاوتی نے کہا کہ اشوک سدھارتھ کو پہلے نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے دوران ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر ریاستی قیادت کے ساتھ ہم آہنگی نہ کر پانے کی وجہ سے پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ بعد میں انہیں اس شرط پر پارٹی میں دوبارہ شامل کیا گیا کہ وہ مستقبل میں ایسی غلطی نہیں کریں گے۔
مایاوتی کے مطابق دوبارہ ذمہ داری ملنے کے بعد بھی اشوک سدھارتھ اپنی ذمہ داریوں کو متوقع انداز میں نبھا نہیں سکے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے علاوہ اڈیشہ اور مغربی بنگال سے بھی ان کے خلاف نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور پارٹی کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ پارٹی اور تحریک کے مفاد میں کئی بار خبردار کیے جانے کے باوجود ان کی حالت میں سدھار نہیں ہوا اس لئے انہیں مستقل طور پر پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں مستقبل میں پارٹی میں دوبارہ شامل نہیں کیا جائے گا۔
بی ایس پی سربراہ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ سہارن پور کے رہائشی اور پارٹی کے کوآرڈینیٹر رندھیر سنگھ بینیوال کو بھی نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور پارٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی کے الزام میں نکال دیا گیا ہے۔ بینیوال کے پاس پنجاب کے ساتھ ساتھ ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر کے کچھ حصوں کی تنظیمی ذمہ داری تھی۔ یہ کارروائی ان کے خلاف بھی مسلسل شکایات موصول ہونے کے بعد کی گئی۔
مایاوتی نے کہا کہ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ رام جی گوتم کو تنظیم میں قومی سطح پر ردوبدل کے حصے کے طور پر دیگر ریاستوں کے ساتھ دوبارہ پنجاب کا انچارج بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام جی گوتم یہ ذمہ داری نہ صرف آنے والے پنجاب اسمبلی انتخابات میں بلکہ اگلے لوک سبھا انتخابات تک بھی نبھائیں گے۔
بی ایس پی سربراہ نے یہ بھی کہا کہ پارٹی نے ایک پالیسی فیصلہ لیا ہے کہ اتر پردیش کے سینئر عہدیداروں اور کوآرڈینیٹرز جو دوسری ریاستوں میں تنظیمی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں، انہیں اتر پردیش میں کوئی تنظیمی ذمہ داری نہیں دی جائے گی۔
مایاوتی نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ شرارتی اور سازشی عناصر کے خلاف چوکس رہیں جو کسی نہ کسی بہانے پارٹی کی مہم کو نقصان پہنچانے یا موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ بی ایس پی کے بارے میں صرف حقائق پر مبنی خبریں شائع اور نشر کریں اور اپوزیشن جماعتوں کے مبینہ پروپیگنڈے کا ذریعہ بننے سے گریز کریں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی