وزیراعظم مودی نے سونی پت میں طلبہ کو نشہ سے پاک رہنے کا حلف دلایا
سونی پت، 2 اگست(ہ س)۔’’نشہ مکت یووا–وکست بھارت سنکلپ ابھیان‘‘ کے تحت اتوار کو ملک گیر سطح پر منعقدہ پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ملک بھر کے 28 ہزار سے زائد مقامات پر موجود ایک کروڑ سے زیادہ طلبہ سے خطاب کیا۔ انہوں ن
وزیراعظم مودی نے سونی پت میں طلبہ کو نشہ سے پاک رہنے کا حلف دلایا


سونی پت، 2 اگست(ہ س)۔’’نشہ مکت یووا–وکست بھارت سنکلپ ابھیان‘‘ کے تحت اتوار کو ملک گیر سطح پر منعقدہ پروگرام میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ملک بھر کے 28 ہزار سے زائد مقامات پر موجود ایک کروڑ سے زیادہ طلبہ سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ نشہ سے پاک زندگی ہی ایک صحت مند، مضبوط اور ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد ہے۔ وزیر اعظم نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی توانائیاں تعلیم، کھیل اور قوم کی تعمیر میں صرف کریں اور تمام طلبہ کو منشیات سے دور رہنے کا حلف دلایا۔

اس مہم کے لیے ہریانہ کھیل یونیورسٹی، رائے کو ضلع سونی پت کا مرکزی مقام بنایا گیا تھا۔ یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ہریانہ کھیل یونیورسٹی اور موتی لال نہرو کھیل کود ودیالیہ کے طلبہ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پروگرام میں شرکت کی اور اجتماعی طور پر نشہ سے پاک رہنے کا عہد کیا۔

اس موقع پر رائے سے رکن اسمبلی کرشنا گہلاوت، سونی پت کے رکن اسمبلی نکھل مدان اور وزیر اعلیٰ کے او ایس ڈی وریندر سنگھ بڑکھالسا بھی موجود تھے۔ مقررین نے طلبہ کے ساتھ حلف لیتے ہوئے کہا کہ نوجوان صرف نشہ سے دور رہ کر ہی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کھیل، تعلیم، نظم و ضبط اور اخلاقی اقدار کو زندگی کا لازمی حصہ بنانے پر زور دیا۔

وزیر اعلیٰ کے او ایس ڈی وریندر سنگھ بڑکھالسا نے کہا کہ منشیات نہ صرف ایک فرد بلکہ اس کے خاندان، معاشرے اور ملک کے مستقبل کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ رکن اسمبلی نکھل مدان نے کہا کہ نوجوانوں کی توانائی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے، اس لیے ہر نوجوان کو خود بھی نشہ سے دور رہنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس مہم کا حصہ بنانا چاہیے۔

ہریانہ کھیل یونیورسٹی کے وائس چانسلر اشوک کمار نے کہا کہ منشیات کی غیر قانونی تجارت دہشت گردی کی مالی معاونت کا ایک بڑا ذریعہ بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ’’نشہ مکت بھارت‘‘ اور’’وکست بھارت‘‘ کے وژن کو کامیاب بنانے میں نوجوانوں کا کردار سب سے زیادہ اہم ہے۔پروگرام میں یونیورسٹی اور اسکول کے افسران، اساتذہ، ملازمین اور بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی اور معاشرے کے ہر طبقے تک منشیات کے خلاف بیداری کا پیغام پہنچانے کا عزم دہرایا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande