
سری نگر/ دہلی۔ 2 اگست (ہ س) : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی اور مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم، کشمیر یونیورسٹی کے باہمی اشتراک سے اردو اساتذہ کی صلاحیت سازی: قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی روشنی میں کے عنوان سے منعقدہ پانچ روزہ ورکشاپ آج اختتامی اجلاس کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔
اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر شریف الدین پیرزادہ، ڈین اکیڈمک افیئرز، کشمیر یونیورسٹی نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انھوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تربیتی ورکشاپس اساتذہ کی علمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پانچ روزہ ورکشاپ میں جن اہم اور عصری موضوعات پر ماہرین نے اظہارِ خیال کیا، وہ موجودہ تعلیمی منظرنامے میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے شرکائے ورکشاپ پر زور دیا کہ وہ یہاں حاصل کیے گئے علم، تجربات اور جدید تدریسی طریقوں کو اپنی درس گاہوں میں عملی طور پر بروئے کار لائیں اور اپنے طلبہ تک منتقل کریں، کیونکہ اسی صورت میں اس ورکشاپ کے حقیقی مقاصد حاصل ہو سکیں گے۔
پروفیسر طارق احمد چشتی، سابق ڈائریکٹر، مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم نے اپنے خطاب میں اساتذہ کے کردار کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تدریسی عمل میں بچوں کی نفسیات، ذہنی استعداد اور بدلتے ہوئے سماجی تقاضوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اچھا استاد صرف نصاب نہیں پڑھاتا بلکہ طلبہ کی شخصیت سازی اور ان کی ہمہ جہت ترقی میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
پروفیسر الطاف انجم، ڈائریکٹر، مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم نے کہا کہ اس ورکشاپ کے دوران حاصل ہونے والی معلومات اور تدریسی مہارتوں کو عملی زندگی میں نافذ کرنا ہی اس کی اصل کامیابی ہے۔ انھوں نے شرکائے ورکشاپ سے اپیل کی کہ وہ یہاں سیکھی ہوئی جدید تدریسی تکنیکوں، قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے نکات اور جدید تعلیمی رجحانات کو اپنے طلبہ تک ضرور پہنچائیں تاکہ ان کی تدریس مزید مؤثر اور بامقصد بن سکے۔
اس موقع پر پروفیسر صلاح الدین ٹاک، پروفیسر سجان کور بالی، پروفیسر محمد ریاض اور سید جاوید کرمانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس نوعیت کی علمی و تربیتی سرگرمیوں کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور اردو اساتذہ کے لیے ان کی افادیت پر روشنی ڈالی۔
اختتامی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر محمد رفیع نے انجام دی جبکہ ڈاکٹر بلال نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔ آخر میں ورکشاپ میں شریک تمام ریسورس پرسنس، مختلف تکنیکی نشستوں کے صدور اور شرکائے ورکشاپ میں اسناد تقسیم کی گئیں۔
پانچ روزہ ورکشاپ کے دوران اٹھارہ تکنیکی سیشنس منعقد ہوئے ۔ ان سیشنس میں قومی تعلیمی پالیسی 2020، اردو اساتذہ کی صلاحیت سازی، جدید تدریسی اسالیب، مصنوعی ذہانت کا تعلیمی استعمال، اردو شاعری اور نثر کی تدریس، شعر کی شرح و تعبیر، سوال سازی، بچوں کی نفسیات، درست تلفظ، املا و تحریر، اخلاقی اقدار کی تدریس، کثیر جہتی تعلیم، ایک مثالی استاد کی خصوصیات اور جدید تعلیمی ٹیکنالوجی سمیت متعدد اہم موضوعات پر تفصیلی اور عملی لیکچرز پیش کیے گئے۔
ورکشاپ میں پروفیسر شفق سوپوری، پروفیسر محمد ریاض احمد، پروفیسر الطاف انجم، ڈاکٹر عظمت اللہ خان احساس، ڈاکٹر واحد نظیر، ڈاکٹر راکیش کمار، ڈاکٹر نصرت جبیں، ڈاکٹر مشتاق حیدر، ڈاکٹر محی الدین زور کشمیری، ڈاکٹر محمد رفیع، ڈاکٹر شوکت رشید وانی، ڈاکٹر اسرار احمد خان، ڈاکٹر حبیب اللہ شاہ، محترمہ مطہرہ حنیف، ڈاکٹر روحی سلطانہ، میر ساجد رمضان اور شاکر شفیع وغیرہ نے مختلف علمی و تدریسی موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ تمام سیشنز میں جدید تدریسی طریقوں، قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے عملی پہلوؤں اور اردو زبان کی مؤثر تدریس سے متعلق مفید مباحث ہوئے۔ ہر تکنیکی سیشن کے بعد سوال و جواب کا بھی وقفہ رکھا گیا، جس میں شرکائے ورکشاپ نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ موضوعات سے متعلق سوالات کیے اور ماہرین نے ان کے مدلل اور اطمینان بخش جوابات دیے۔
اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو اساتذہ کو جدید تدریسی مہارتوں، نئی تعلیمی ٹیکنالوجی اور مؤثر تدریسی حکمتِ عملیوں سے آراستہ کرنا تھا۔ پانچ روز تک جاری رہنے والی اس علمی و تربیتی ورکشاپ نے شرکا کو نہ صرف نئے تدریسی رجحانات سے روشناس کرایا بلکہ انھیں عملی مشقوں، مکالمے اور ماہرین کے تجربات سے استفادہ کرنے کا بھی بھرپور موقع فراہم کیا، جس کے باعث یہ ورکشاپ اپنے مقاصد کے حصول میں نمایاں طور پر کامیاب رہی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد