
نئی دہلی، 2 اگست(ہ س)۔
بھارتی قومی حیاتیاتی تنوع اتھارٹی (این بی اے) نے دھان(چاول) سے متعلق تحقیقاتی اداروں اور چاول پیدا کرنے والی مختلف ریاستوں کو مجموعی طور پر 8.22 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔ یہ رقم ایک بین الاقوامی بیج کمپنی سے حاصل ہونے والی فائدہ شراکت کے تحت تقسیم کی گئی، جس نے بھارتی دھان کی اقسام استعمال کرکے ہائبرڈ بیج تیار کیے اور انہیں تجارتی سطح پر فروخت کیا۔ اسے دھان کے شعبے میں اب تک کی سب سے بڑی یک مشت فائدہ شراکت کی تقسیم میں شمار کیا جا رہا ہے۔
مرکزی وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق مجموعی رقم میں سے 2.47 کروڑ روپے ان تحقیقاتی اداروں کو دیے گئے ہیں جنہوں نے دھان کی اقسام کے تحفظ اور ان کے اشتراک میں اہم کردار ادا کیا۔ ان میں آئی سی اے آر-انڈین رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، حیدرآباد کو 2.43 کروڑ روپے جبکہ گووند بلبھ پنت زرعی و ٹیکنالوجی یونیورسٹی، اتراکھنڈ کو 3.26 لاکھ روپے فراہم کیے گئے۔
وزارت نے بتایا کہ 33 ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلوں کو مجموعی طور پر 5.75 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ تقسیم وزارتِ زراعت کے مربوط پورٹل میں درج چاول کی کاشت کے رقبے کی بنیاد پر کی گئی ہے۔اس تقسیم میں اتر پردیش کو سب سے زیادہ، یعنی 73 لاکھ روپے سے زائد کی رقم ملی ہے۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال، تلنگانہ، اوڈیشہ، چھتیس گڑھ، پنجاب، بہار، مدھیہ پردیش، آسام اور آندھرا پردیش بھی سب سے زیادہ فنڈ حاصل کرنے والی دس ریاستوں میں شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق تحقیقاتی ادارے اس رقم کو بیجوں کے ذخیرے، جرمپلازم کے تحفظ، زرعی تحقیق اور تربیتی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر خرچ کریں گے، جبکہ ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز مقامی فصلوں کے تحفظ، ماحولیاتی نظام کی بحالی، روایتی زرعی علم کی دستاویز سازی اور کسانوں و مقامی علم رکھنے والوں کی معاونت جیسے منصوبوں پر یہ فنڈ استعمال کریں گے۔این بی اے کے مطابق اب تک زرعی اور بیج کے شعبے سے تقریباً 83 کروڑ روپے کی فائدہ شراکت حاصل کی جا چکی ہے، جبکہ مختلف شعبوں میں تقسیم کی جانے والی مجموعی رقم 162 کروڑ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan