
نئی دہلی، 2 اگست (ہ س)۔ ملک میں تجارتی کان کنی کا نظام نافذ ہونے کے بعد کوئلے کی پیداوار ایک ارب ٹن سے تجاوز کر گئی ہے۔ جون 2020 سے اب تک 14 مراحل میں 141 تجارتی کوئلہ کانوں کی نیلامی کی جا چکی ہے، جن سے مکمل پیداوار شروع ہونے پر سالانہ تقریباً 47 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی اور قریب 4.75 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔
کوئلہ کی وزارت نے اتوار کو بتایا کہ مالی سال 25-2024 میں ملک کی کوئلہ پیداوار 1,047.52 ملین ٹن جبکہ مالی سال 26-2025 میں 1,040.08 ملین ٹن رہی۔ مالی سال 15-2014 میں یہ پیداوار 609.18 ملین ٹن تھی۔ وزارت کے مطابق اس اضافے میں کیپٹو اور تجارتی کوئلہ کانوں کا اہم کردار رہا ہے، اور قومی پیداوار میں ان کا حصہ مالی سال 22-2021 کے 10.9 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 20.2 فیصد ہو گیا ہے۔
وزارت نے بتایا کہ بھارت دنیا میں کوئلے کے ذخائر رکھنے والا پانچواں سب سے بڑا ملک جبکہ کوئلہ پیدا کرنے اور استعمال کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ ملک کی بنیادی توانائی کی ضرورت کا تقریباً 55 فیصد حصہ کوئلے سے پورا ہوتا ہے، جبکہ 70 فیصد سے زیادہ بجلی کی پیداوار بھی کوئلے پر منحصر ہے۔
سال 2014 میں سپریم کورٹ کی جانب سے 204 کوئلہ بلاکس کی الاٹمنٹ منسوخ کیے جانے کے بعد شفاف نیلامی کا نظام نافذ کیا گیا۔ اسی کے تحت 18 جون 2020 کو آتم نربھر بھارت مہم کے تحت تجارتی کوئلہ کان کنی کا آغاز کیا گیا، جس کے ذریعے نجی کمپنیوں کو بھی کھلے بازار میں کوئلہ فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔
وزارت نے بتایا کہ جون 2020 سے اب تک 14 مراحل میں 141 کوئلہ کانوں کی نیلامی کی جا چکی ہے، جن کی مجموعی سالانہ پیداواری صلاحیت 366.35 ملین ٹن ہے۔ ان میں سے 123 کانیں نجی کمپنیوں کو دی گئی ہیں، جبکہ 44 کامیاب بولی دہندگان ایسے ہیں جنہوں نے اس سے پہلے کبھی کوئلہ کان کنی نہیں کی تھی۔ اوسط آمدنی شراکت داری 24.17 فیصد رہی، جو مقررہ کم از کم چار فیصد سے تقریباً چھ گنا زیادہ ہے۔
مالی سال 26-2025 میں کیپٹو اور تجارتی کانوں سے مجموعی طور پر 210.46 ملین ٹن کوئلہ پیدا ہوا، جو پہلی بار 200 ملین ٹن کے ہندسے سے تجاوز کر گیا۔ ان میں تجارتی کانوں کا حصہ 26.12 ملین ٹن رہا، جبکہ اس وقت 23 تجارتی کوئلہ کانیں فعال ہیں۔
وزارت کے مطابق نیلام کی گئی تمام تجارتی کانوں کے مکمل طور پر فعال ہونے پر تقریباً 48,756 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی پریمیم سے حاصل ہونے والی آمدنی مالی سال 15-2014 کے 461 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 26-2025 میں 5,553 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت نے کہا کہ نیلام کی گئی تمام کانوں کو جلد از جلد پیداوار میں لانے کے لیے منظوری کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مکمل طور پر دریافت شدہ کانوں کے آغاز کی مدت 51 ماہ سے گھٹا کر 40 ماہ کر دی گئی ہے، جبکہ جزوی طور پر دریافت شدہ کانوں کے لیے یہ مدت 66 ماہ سے کم کر کے 52 ماہ کر دی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد