لکھنؤ میں 3 اور 4 اگست کو برکس ممالک کے شماریات کے سربراہان کا اجلاس
نئی دہلی، 02 اگست (ہ س)۔ بھارت کی صدارت میں برکس ممالک کے قومی شماریاتی دفاتر (این ایس او) کے سربراہان کی میٹنگ 3 اور 4 اگست کو لکھنو میں منعقد ہوگی۔ تبدیلی کا محرک: معیاری شماریات کے موضوع پر ہونے والی اس میٹنگ میں شماریاتی مصنوعات کو مضبوط بن
لکھنؤ میں 3 اور 4 اگست کو برکس ممالک کے شماریات کے سربراہان کا اجلاس


نئی دہلی، 02 اگست (ہ س)۔

بھارت کی صدارت میں برکس ممالک کے قومی شماریاتی دفاتر (این ایس او) کے سربراہان کی میٹنگ 3 اور 4 اگست کو لکھنو میں منعقد ہوگی۔ تبدیلی کا محرک: معیاری شماریات کے موضوع پر ہونے والی اس میٹنگ میں شماریاتی مصنوعات کو مضبوط بنانے، قومی شماریاتی نظام میں بہتری، اعداد و شمار کی دستیابی اور موثر ترسیل، نیز معاشی اور شعبہ جاتی شماریات کو مزید مستحکم بنانے پر غور کیا جائے گا۔

مرکزی وزارتِ شماریات و پروگرام عمل درآمد کے مطابق 2026 میں برکس کی بھارتی صدارت کا وسیع موضوع لچک، اختراع، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر ہے۔ اسی تناظر میں شماریات کے شعبے میں بھارت نے معیاری اعداد و شمار کو تبدیلی کا بنیادی محرک قرار دیتے ہوئے ڈیٹا کے معیار، اختراع، مو¿ثر ترسیل اور عوام پر مرکوز شماریاتی نظام پر زور دیا ہے۔

میٹنگ میں برازیل، روس، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں شماریاتی مصنوعات کو بہتر بنانے، قومی شماریاتی نظام کو مضبوط کرنے، اعداد و شمار کی دستیابی اور اشاعت کو فروغ دینے، نیز معاشی اور شعبہ جاتی شماریات کو مزید مستحکم کرنے کے مختلف پہلوو¿ں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

برکس ممالک نے 2010 سے مشترکہ شماریاتی اشاعت (جے ایس پی) جاری کرنا شروع کی تھی، جبکہ 2020 سے اسنیپ شاٹ جے ایس پی بھی شائع کی جا رہی ہے۔ اس تعاون نے صرف اعداد و شمار کے تبادلے تک محدود رہنے کے بجائے معیارات میں ہم آہنگی اور اختراعات کے فروغ تک وسعت اختیار کر لی ہے۔ اسی سال 16 اور 17 اپریل کو ایک تکنیکی اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں جے ایس پی اور اسنیپ شاٹ 2026 کی تیاری کے لیے خاکہ تیار کیا گیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande