
نئی دہلی، 19 اگست (ہ س)۔ میٹل رولز، انجینئرنگ کاسٹنگز، الائے اسٹیل مصنوعات اور فورجنگ بلاکس تیار کرنے والی کمپنی بہاری لال انجینئرنگ لمیٹڈ کے شیئرز نے آج شیئر مارکیٹ میں مضبوط آغاز کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کر دیا۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئرز 285 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج بی ایس ای پر اس کی لسٹنگ 60.70 فیصد پریمیم کے ساتھ 458 روپے کی سطح پر اور این ایس ای پر 63.16 فیصد پریمیم کے ساتھ 465 روپے کی سطح پر ہوئی۔
لسٹنگ کے بعد خریداری شروع ہونے کے باعث شیئر کی قیمت میں تیزی آگئی۔ خریداری کے سہارے یہ شیئر 529 روپے کی سطح تک پہنچ گئے۔ تاہم بعد میں منافع وصولی کے لیے ہونے والی فروخت کے سبب اس میں معمولی کمی بھی دیکھی گئی۔ دوپہر 12:30 بجے تک کی تجارت کے بعد بہاری لال انجینئرنگ لمیٹڈ کے شیئر 520.80 روپے کی سطح پر کاروبار کر رہے تھے۔ اس طرح اب تک کی تجارت میں کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی شیئر 235.80 روپے یعنی 82.74 فیصد کا فائدہ ہوچکا تھا۔
اس کمپنی کا 301.62 کروڑ روپے کا آئی پی او 12 سے 14 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست ردعمل ملا، جس کے باعث یہ مجموعی طور پر 118.07 گنا سبسکرائب ہوا۔ ان میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز (کیو آئی بی) کے لیے مختص حصہ 222.04 گنا سبسکرائب ہوا۔ اسی طرح نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز(این آئی آئی) کے لیے مختص حصے میں 167.95 گنا سبسکرپشن حاصل ہوا۔ اس کے علاوہ ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ 54.12 گنا سبسکرائب ہوا۔اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو والے کل 1,05,83,158 شیئرز جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں تقریباً 93 کروڑ روپے مالیت کے 32,63,157 نئے شیئرز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ تقریباً 209 کروڑ روپے مالیت کے 73,20,001 شیئرز آفر فار سیل (او ایف ایس) ونڈو کے ذریعے فروخت کیے گئے ہیں۔ آئی پی او میں نئے شیئرز کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال کمپنی مینوفیکچرنگ سہولت کے لیے مشینری اور آلات خریدنے، سولر پینلز کی خریداری، پرانے قرض کا بوجھ کم کرنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے اور عمومی کارپوریٹ مقاصد کے لیے کرے گی۔
بہاری لال انجینئرنگ لمیٹڈ کی مالی صورتحال کی بات کریں تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں کیے گئے دعوے کے مطابق کمپنی کی مالی حالت مسلسل مضبوط رہی ہے۔ مالی سال 2023-24 میں کمپنی کو 35.79 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 52.95 کروڑ روپے ہوگیا۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کا خالص منافع مزید بڑھ کر 64.64 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں کمپنی کو 449.96 کروڑ روپے کی مجموعی آمدنی حاصل ہوئی، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 516.30 کروڑ روپے ہوگئی۔ وہیں گزشتہ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کی آمدنی 546.52 کروڑ روپے رہی۔اس مدت کے دوران کمپنی کے قرض کے بوجھ میں اتار چڑھاؤ آتا رہا۔ مالی سال 2023-24 کے اختتام پر کمپنی پر 41.21 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 2024-25 میں گھٹ کر 7.58 کروڑ روپے رہ گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 میں کمپنی پر قرض کا بوجھ بڑھ کر 17.78 کروڑ روپے ہوگیا۔اس مدت کے دوران کمپنی کی نیٹ ورتھ میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں یہ 193.66 کروڑ روپے تھی۔ اسی طرح 2024-25 میں کمپنی کی نیٹ ورتھ بڑھ کر 241.62 کروڑ روپے ہوگئی۔ وہیں گزشتہ مالی سال 2025-26 میں یہ بڑھ کر 306.10 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
کمپنی کے ریزرو اور سرپلس کی بات کریں تو اس شعبے میں بھی کمپنی نے ترقی کی۔ مالی سال 2023-24 میں یہ 186.13 کروڑ روپے تھا۔ اسی طرح 2024-25 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس بڑھ کر 233.81 کروڑ روپے ہوگیا۔ وہیں گزشتہ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس مزید بڑھ کر 267.06 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (انٹرسٹ، ٹیکس، ڈیپریسی ایشن اور ایمورٹائزیشن سے قبل آمدنی) مالی سال 2023-24 میں 60.99 کروڑ روپے تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 81.31 کروڑ روپے ہوگیا۔ وہیں گزشتہ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے مزید بڑھ کر 101.32 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan