
نئی دہلی/ممبئی، 19 اگست (ہ س)۔ بھارتی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ (سیبی) کے چیئرمین تُہِن کانت پانڈے نے بدھ کے روز مارکیٹ کے شراکت داروں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ کلوزنگ آکشن سیشن (سی اے ایس)کو بدنام کرنے یا اس میں کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری کی کوشش سے سختی اور فوری طور پر نمٹا جائے گا۔
تُہِن کانت پانڈے نے ممبئی میں صنعتی تنظیم فکی کے زیر اہتمام ایک پروگرام سے الگ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیبی سی اے ایس میں ہونے والی ہیرا پھیری کا نسبتاً آسانی سے پتہ لگا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی اے ایس کا بنیادی مقصد شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ اگر کوئی شخص اس نئے نظام کو بدنام کرنے کے لیے اس میں ہیرا پھیری کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سیبی سربراہ نے کہا کہ کلوزنگ آکشن سیشن (سی اے ایس) یعنی مارکیٹ بند ہونے کے بعد شیئرز کی حتمی قیمت طے کرنے کے نظام کو بدنام کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سخت کارروائی کرے گا۔
سی اے ایس کو 3 اگست سے نافذ کیے جانے کے بعد مارکیٹ کے مختلف شرکا کی جانب سے اس نظام کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس پر پانڈے نے کہا کہ سی اے ایس میں مشتبہ سرگرمیوں یا ہیرا پھیری کا پتہ لگانے کی سیبی کی صلاحیت اس سابقہ والیوم ویٹڈ ایوریج پرائس(وی ڈبلیو اے پی)نظام کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے، جس کی جگہ نیا نظام نافذ کیا گیا ہے۔
سیبی چیئرمین نے کہا کہ سی اے ایس نظام میں مارکیٹ شرکا کی شرکت بتدریج بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر میوچل فنڈز اور اپنے اکاؤنٹ سے کاروبار کرنے والے ٹریڈرز کی جانب سے اس نظام کو اپنانے کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا، ’’میرا خیال ہے کہ سی اے ایس میں شرکت بہتر ہو رہی ہے اور مستقبل میں مزید بہتری آئے گی۔ ہم شرکت کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘‘سیبی نے مارکیٹ میں ہیرا پھیری کو روکنے اور شفافیت بڑھانے کے مقصد سے کلوزنگ آکشن سیشن کا نظام شروع کیا ہے۔ اس نظام کے تحت کاروبار ختم ہونے سے قبل مقررہ مدت میں خرید و فروخت کے آرڈرز کو فوری طور پر مکمل کرنے کے بجائے جمع کیا جاتا ہے، جس کے بعد نیلامی پر مبنی آرڈر میچنگ کے عمل کے ذریعے انہیں ملایا جاتا ہے۔سیبی کے مطابق دنیا کی کئی بڑی شیئر مارکیٹس میں گزشتہ دو برس سے سی اے ایس جیسے نظام کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan