
نئی دہلی، 18 اگست (ہ س)۔
ملک کے متعدد سرکردہ جیولری ہاوسز کے لیے ہینڈ کرافٹیڈ جیولری تیار کرنے اور اپنے صارفین کو کسٹمائزیشن کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی شنکیش جیولرز کا 367.18 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کر دیا گیا۔ اس آئی پی او میں 20 اگست تک بولی لگائی جا سکتی ہے۔ ایشو کی بندش کے بعد 21 اگست کو شیئرز الاٹ کیے جائیں گے، جبکہ 24 اگست کو الاٹ شدہ شیئرز ڈی میٹ اکاونٹ میں کریڈٹ کر دیے جائیں گے۔ کمپنی کے شیئرز 25 اگست کو بی ایس ای اور این ایس ای پر لسٹ ہو سکتے ہیں۔ لانچنگ کے بعد پہلے دن اس آئی پی او کو 36 فیصد سبسکرپشن حاصل ہوا تھا۔
اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے 88 روپے سے لے کر 93 روپے فی شیئر کا پرائس بینڈ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ سائز 160 شیئرز پر مشتمل ہے۔ اس آئی پی او میں ریٹیل انویسٹرز کم از کم ایک لاٹ یعنی 160 شیئرز کے لیے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لیے انہیں 14,880 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح ریٹیل انویسٹر 1,93,440 روپے کی سرمایہ کاری سے زیادہ سے زیادہ 13 لاٹس میں 2,080 شیئرز کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔ اس آئی پی او کے تحت پانچ روپے فیس ویلیو والے کل 3,94,82,000 شیئرز جاری کیے جا رہے ہیں۔ ان میں تقریباً 274 کروڑ روپے کے 2,94,82,000 نئے شیئرز شامل ہیں، جبکہ تقریباً 93 کروڑ روپے کے ایک کروڑ شیئرز ’آفر فار سیل‘ ونڈو کے ذریعے فروخت کیے جا رہے ہیں۔
اس آئی پی او میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز (کیو آئی بی) کے لیے 47.56 فیصد حصہ مخصوص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریٹیل انویسٹرز کے لیے 36.71 فیصد اور نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (این آئی آئی) کے لیے 15.73 فیصد حصہ مختص ہے۔ اس ایشو کے لیے آریامن فائنینشل سروسز لمیٹڈ کو بُک رننگ لیڈ منیجر جبکہ کے فن ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کو رجسٹرار مقرر کیا گیا ہے۔
شنکیش جیولرز کی مالی حالت کی بات کریں تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر ’سیبی‘ کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پروسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں کیے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی پوزیشن مستحکم رہی ہے۔ مالی سال 24-2023 میں کمپنی کو 12.82 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 40.31 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ وہیں گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کا خالص منافع زبردست اضافے کے ساتھ 106.68 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی (ریونیو) میں مسلسل اضافہ درج کیا گیا۔ مالی سال 24-2023 میں اسے 1,061.91 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل ہوئی، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 1,403.94 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گئی۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کو 1,630.93 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔ اس عرصے کے دوران کمپنی پر واجب الادا قرض کا بوجھ بھی مسلسل بڑھتا رہا۔ مالی سال 24-2023 کے اختتام پر کمپنی پر 109.81 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 145.63 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 کی بات کی جائے تو اس دوران کمپنی پر قرض کا بوجھ مزید بڑھ کر 167.30 کروڑ روپے ہو گیا۔
کمپنی کے ریزرو اور سرپلس میں بھی اس عرصے میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ مالی سال 24-2023 کے اختتام پر کمپنی کا ریزرو اور سرپلس 57.50 کروڑ روپے تھا، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 90.83 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 کے دوران کمپنی کا ریزرو اور سرپلس 150.65 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا تھا۔ اس عرصے میں کمپنی کی مجموعی مالیت (نیٹ ورتھ) میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 میں یہ 60.29 کروڑ روپے تھی، جو 25-2024 میں بڑھ کر 100.60 کروڑ روپے ہو گئی۔ وہیں گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کی نیٹ ورتھ 209.43 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹرسٹ، ٹیکسز، ڈیپریشیشنز اینڈ امورٹائزیشن) 24-2023 میں 28.60 کروڑ روپے کی سطح پر تھی، جو 25-2024 میں بڑھ کر 65.35 کروڑ روپے ہو گئی۔ وہیں گزشتہ مالی سال 26-2025 میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے 157.90 کروڑ روپے کی سطح پر رہا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن