
نئی دہلی، 18 اگست(ہ س)۔ پولی یوریتھین فوم (پی یو فوم) تیار کرنے اور مارکیٹنگ کرنے والی کمپنی شام فوم کے حصص نے آج اسٹاک مارکیٹ میں زوردار گراوٹ کے ساتھ آغاز کیا، جس سے اس کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو دھچکا لگا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 130 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج یہ بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر 20 فیصد رعایت کے ساتھ 104 روپے کی سطح پر درج ہوا۔لسٹنگ کے بعد خریداری کی وجہ سے کمپنی کے حصص 109 روپے کی سطح پر پہنچ گئے۔ اس کے بعد فروخت کا دباو کی وجہ سے یہ حصص تھوڑے ہی عرصے میں 98.80 روپے کی نچلی سرکٹ کی سطح پر گر گئے۔ اس طرح، تجارت کے پہلے ہی دن، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی حصص31.20روپے یعنی 24 فیصد کا نقصان ہوا۔
شام فوم کا 40.48 کروڑ روپے کا آئی پی او 11 اور 13 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے ہلکا ردعمل ملا، جس کے نتیجے میں اسے مجموعی طور پر 2.40 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 2.17 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 2.62 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو کے کل 31.14 لاکھ نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او کی آمدنی کو اپنی موجودہ مینوفیکچرنگ سہولت پر مشینری اور آلات کی خریداری، سول کنسٹرکشن کرنے، قرض کو کم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔
شام فوم کی مالی صحت کے حوالے سے، جیسا کہ کیپٹل مارکیٹس ریگولیٹر سیبی کو پیش کیے گئے اس کے ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) کے مسودے میں دعوی کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2023تا2024میں کمپنی کا خالص منافع 2.97 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 3.58 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی دوران، پچھلے مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا خالص منافع 8.65 کروڑ روپے تھا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2023تا2024 میں 73.89 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 81.62 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران پچھلے مالی سال2025تا2026میں کمپنی کو 92.39 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔
اس دوران کمپنی کے قرض کا بوجھ مسلسل کم ہوا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی پر 10.11 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025میں کم ہو کر 9.22 کروڑ روپے رہ گیا۔ اسی طرح مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا قرض کا بوجھ مزید کم ہو کر 3.99 کروڑ روپے رہ گیا۔
اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024میں یہ 8.88 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔ اسی طرح، کمپنی کی مجموعی مالیت 2024تا2025 میں بڑھ کر 12.46 کروڑ روپے ہو گئی اور گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں 21.11 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
اس دوران کمپنی کے رزرو اور سرپلس میں اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال2023تا2024 میں یہ 8.70 کروڑ روپے تھی۔ اسی وقت، کمپنی کے رزرو اور سرپلس2024تا2025 میں تیزی سے گرکر 4.25 کروڑ روپے رہ گئے ۔ اس کے ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس بڑھ کر 12.7424.58 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔
اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹریسٹ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن ) 2023تا2024میں 4.43 کروڑ روپے تھی، جو 2024تا2025میں بڑھ کر4.69 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران، گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے بڑھ کر 11 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی