ملکی مسٹ نے شیئربازار میں مضبوط آغاز کیا، پریمیم لسٹنگ کے بعد اوپری سرکٹ لگا
نئی دہلی، 18 اگست(ہ س)۔ دودھ کی مصنوعات کی تیاری اور مارکیٹنگ کرنے والی کمپنی، ملک مسٹ ڈیری فوڈ لمیٹڈ کے حصص نے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کرتے ہوئے آج شیئربازار میں مضبوط آغاز کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 140 روپے کی قیمت پر جاری کیے
شیئر


نئی دہلی، 18 اگست(ہ س)۔ دودھ کی مصنوعات کی تیاری اور مارکیٹنگ کرنے والی کمپنی، ملک مسٹ ڈیری فوڈ لمیٹڈ کے حصص نے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کرتے ہوئے آج شیئربازار میں مضبوط آغاز کیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت 140 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج یہ بی ایس ای اور این ایس ای پر17.86فیصد پریمیم کے ساتھ 165 روپے کی سطح پر درج ہوا۔ لسٹنگ کے بعد خریداری کے سپورٹسے شیئرکچھ ہی دیر میں181.50 روپے کی اوپری سرکٹ کی سطح پر پہنچ گیا۔ اس طرح، تجارت کے پہلے دن، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں نے فی حصص41.50 روپے یعنی 29.64 فیصد منافع حاصل کیے۔

کمپنی کا 1,553 کروڑ روپے کا آئی پی او 11 اور 13 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی طرف سے زبردست ردعمل ملا، جس کی وجہ سے اسے مجموعی طور پر 59.08 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ ان میں اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصے کو 164.03 گنا سبسکرائب کیا گیا تھا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے کو 36.75 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ نیز، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص حصے کو 8.86 گنا سبسکرائب کیا گیا اور ملازمین کے لیے مخصوص حصے کو 13.15 گنا سبسکرائب کیا گیا۔

اس آئی پی او کے تحت 2 روپے کی فیس ویلیو کے ساتھ کل 11,09,43,193 حصص جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں تقریبا 1,428 کروڑ روپے کے 10,20,14,623 نئے شیئر جاری کیے گئے ہیں۔ مزید ، پیشکش برائے فروخت ونڈو کے ذریعے 125 کروڑ روپے کے 89,28,570حصص فروخت کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او میں نئے حصص کی فروخت سے اکٹھا ہونے والی رقم کو پیروندورئی مینوفیکچرنگ سہولت کو بڑھانے، پرانے قرض کے بوجھ کو کم کرنے، ورکنگ کیپٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔

ملکی مسٹ ڈیری فوڈ لمیٹڈ کی مالی حالت کے بارے میں بات کریں تو، جیسا کہ پراسپیکٹس میں دعوی کیا گیا ہے، اس کی مالی صحت مستقل طور پر مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2023تا2024میں کمپنی کا خالص منافع 19.44 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال2024تا2025 میں بڑھ کر 46.07 کروڑ روپے ہو گیا۔ کمپنی نے پچھلے مالی سال2025تا2026 میں 127.01 کروڑ روپے کا خالص منافع حاصل کیا تھا۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوا۔ اس نے مالی سال 2023تا2024 میں 1,826.86 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر 2,354.79 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی دوران، پچھلے مالی سال2025تا2026 میں، کمپنی کو 3,145.01 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔

اس دوران کمپنی کا قرض بھی مسلسل بڑھتا گیا۔ مالی سال 2023تا2024کے اختتام پر کمپنی پر 1,036.72 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 2024تا2025میں بڑھ کر2,354.79کروڑ روپے کی سطح پر آگیا۔گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کو3,145.01کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔

اس دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024میں یہ 197.05 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔ اسی طرح2024تا2025میں کمپنی کی مجموعی مالیت بڑھ کر 242.77 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی وقت پچھلے مالی سال 2025تا2026 میں 378 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

کمپنی کے رزرواور سرپلس کی بات کریں تو کمپنی کو اس عرصے میں اس محاذ پر اتار چڑھاو¿ کا سامنا کرنا پڑا۔ مالی سال 2023تا2024میں یہ 278.04 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔ تاہم، اگلے سال 2024تا2025میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس کم ہو کر 199.23 کروڑ روپے رہ گئے۔ اسی کے ساتھ ہی گزشتہ مالی سال 2025تا2026میں کمپنی کے رزرو اور سرپلس بڑھ کر 333.55 کروڑ روپے ہو گئے۔

اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹریسٹ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈ ایمارٹائزیشن) 2023تا2024میں 222.33 کروڑ روپے رہی، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 310.35 کروڑ روپے ہو گئی۔ اسی طرح پچھلے مالی سال 2025تا2026میں یہ 435.22 کروڑ روپے تھی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande