
نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ لون دلووانے اور بینککا عمل پورا کرانے کی آڑ میں لوگوں سے دھوکہ دہی کرنےو الے دو سائبر بدمعاشوں کو شاہدرہ سائبر تھانہ پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ ملزمان لوگوں کو بینک کا اہلکار ظاہر کر کے فون کرتے تھے اور فائل چارجز، پروسیسنگ فیس اور قرض کی منظوری کے نام پر رقم اپنےکھاتے میں منتقل کرواتے تھے۔ پولیس نے ملزمان سے دو موبائل فون، دو سم کارڈ اور ایس بی آئی اے ٹی ایم کارڈ برآمد کیا۔
پولیس کے مطابق شاہدرہ کا رہائشی کرشن اوتار سہگل بینک سے قرض حاصل کرنے کی کوشش میں تھے۔ اسی دوران انہیں نامعلوم نمبر سے کال موصول ہوئی۔ فون کرنے والے نے اپنا تعارف بینک کا لون پروسیسنگ آفیسر کے طور پر کرایا۔ اس نے قرض کی منظوری کے لیے متاثرہ کو فائل اور پروسیسنگ چارجز کے نام پر کئی بار رقم جمع کروائی۔ بعد میں متاثرہ کو معلوم ہوا کہ فون کرنے والے کا بینک سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ دھوکہ بازوں نے ا ن کے ساتھ کل 1,10,141 روپے کی دھوکہ دہی کی ۔ سائبر تھانہ شاہدرہ میں 21 جولائی کو مقدمہ درج کیا گیا۔
کیس کی تحقیقات کے لیے انسپکٹر شویتا شرما، اے ایس آئی راجدیپ، ہیڈ کانسٹیبل جاوید، دیپک، نریندر اور کانسٹیبل رنجیت پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ اے سی پی آپریشنز مہندر سنگھ کی نگرانی میں اور پولیس اسٹیشن آفیسر وجے کمار کی قیادت میں ٹیم نے منی ٹریل، موبائل نمبر، کال کی تفصیلات اور فراڈ فنڈز سے متعلق تکنیکی معلومات کی جانچ کی۔
تحقیقات کے دوران 26 سالہ روی کمار کو غازی آباد میں اس کے کرائے کے مکان سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کے مطابق فراڈ میں استعمال ہونے والے موبائل نمبر اس کے نام پر رجسٹرڈ تھے اور سائبر کرائم کے ایک اور کیس سے بھی منسلک تھے۔ پوچھ گچھ کے دوران، اس نے مبینہ طور پر دھوکہ دہی کی رقم حاصل کرنے کے لیے بینک اکاو¿نٹس فراہم کرنے اور اپنے ساتھی کندن کو رقوم منتقل کرنے کا اعتراف کیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسے اے ٹی ایم سے دھوکہ دہی سے رقم نکالتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔
اس کے بعد پولیس نے 23 سالہ ارون سنگھ کو ویشالی میں کرائے کے مکان سے گرفتار کر لیا۔ الزام ہے کہ ارون نے بینک کا اہلکار ظاہر کیا اور متاثرہ سے بات کی۔ اس کے پاس سے تقریباً 70,000 روپئے دھوکہ دہی میں جمع کرنے کے لئے استعمال ہونے والا ایس بی آئی اے ٹی ایم کارڈ برآمد ہوا۔ دو موبائل فون اور دو سم کارڈز بھی برآمد ہوئے ہیں۔
پولیس کو ارون کے موبائل فون پر کئی صارفین کے ناموں اور فون نمبروں کی فہرست ملی۔ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ ان افراد کو بھی نشانہ بنایا جا چکا تھا یا انہیں نشانہ بنانے کی تیاری تھی ۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ارون نے مبینہ طور پر یس بینک کے ملازم شیوم ٹھاکر کی شناخت کا استعمال کرتے ہوئے صارفین سے رابطہ کیا۔ موبائل فون سے شیوم ٹھاکر کے نام پر ایک ملازم کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا ہے۔ پولیس اب شناختی کارڈ کے ذرائع، صداقت اور اس کے استعمال کے پورے نیٹ ورک کی چھان بین کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد