احتجاجی طلبا پر طاقت کے استعمال پر اپوزیشن کا پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔نیٹ کے سوالیہ پرچے کے لیک معاملے میں جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبا پر طاقت کے استعمال اور پولیس کارروائی پر پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے پیر کو پارلیمنٹ کے احاطے
OPPOSITION-PROTEST-AMIT-SHAH-NEET


نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔نیٹ کے سوالیہ پرچے کے لیک معاملے میں جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبا پر طاقت کے استعمال اور پولیس کارروائی پر پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کا مطالبہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے پیر کو پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج کیا ۔ اس دوران ممبران پارلیمنٹ نے نعرے بازی کی اور ہاتھوں میں بڑے بڑے پوسٹر لے کر امت شاہ سے جواب کا مطالبہ کیا ۔احتجاج میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو سمیت کئی اپوزیشن لیڈروں نے حصہ لیا۔

احتجاج کرنے والے ممبران پارلیمنٹ کے ذریعہ ہاتھوں میں اٹھائے گئے پوسٹروں پر”امت شاہ، جواب دو“ لکھا تھا۔ پارلیمنٹ کے احاطے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ جب تک وزیر داخلہ شاہ پارلیمنٹ میں بیان نہیں دیتے تب تک تعطل جاری رہے گا۔

کانگریس جنرل سکریٹری اور ایم پی کے سی وینوگوپال نے کہا کہ اس مسئلہ پر اپوزیشن کا موقف واضح ہے۔ وزیر داخلہ کو پہلے پارلیمنٹ میں آکر دہلی میں طلبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی پر بیان دینا چاہئے۔ اس مدعے پر وزیر داخلہ کے بیان کے بغیر اپوزیشن آگے کی کارروائی نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل، حد بندی بل اور فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل سے متعلق مسائل پر اپوزیشن کا موقف واضح ہے، لیکن طلبا کے مدعے پر پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ کا بیان ان کا بنیادی مطالبہ ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کرسٹوفر تلک نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ گزشتہ تین ہفتوں سے ایوان میں نہیں آئے ہیں۔ اس سے پارلیمنٹ میں ان کی ذمہ داری پر سوال اٹھتے ہیں۔ گزشتہ دو تین دنوں سے حکومت حد بندی بل اور ایف سی آر اے بل جیسے بلوں کو منظور کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande