
علی گڑھ, 10 اگست (ہ س)معروف شیعہ عالم دین مولانا کلب رشید آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچے، جہاں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کے دوران پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس، اترپردیش کی سیاست، کرشن جنم بھومی کے لیے کارسیوا، علی گڑھ کا نام تبدیل کرکے ہری گڑھ کرنے کی تجویز، لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور دیگر امور پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔
پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس کے حوالے سے مولانا کلب رشید نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ ایوان میں جتنا وقت گزارتے ہیں، وہ صرف ان کا ذاتی وقت نہیں بلکہ ملک کے عوام کا وقت ہوتا ہے۔ اس لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے کہ پارلیمنٹ کے وقت کا صحیح استعمال ہو اور عوام سے متعلق اہم مسائل پر سنجیدگی سے بحث کی جائے۔
اترپردیش میں کرشن جنم بھومی کے لیے کارسیوا کی بات پر انہوں نے کہا کہ جب سیاست اپنی کارکردگی کی بنیاد پر بہتر کام نہیں کر پاتی تو بعض اوقات مذہب کا سہارا لیا جاتا ہے۔ مذہب کی آڑ میں سیاست کرنے کے بجائے حکومتوں کو اپنی ذمہ داری اور جواب دہی پر توجہ دینی چاہیے۔ عوام کو روزگار، ترقی اور بنیادی مسائل کے حوالے سے حکومتوں سے سوال کرنا چاہیے۔
علی گڑھ کا نام تبدیل کرکے ہری گڑھ کیے جانے کی تجویز کے بارے میں مولانا کلب رشید نے کہا کہ علی گڑھ صرف ایک شہر کا نام نہیں بلکہ ملک کی ایک اہم شناخت ہے۔ اس شہر نے مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تعلیم، علم اور ترقی کی راہ دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر وہاں کے لوگوں کا ہوتا ہے، اس لیے نام کے بارے میں فیصلہ بھی شہر کے لوگوں کی پسند اور جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کسی شہر کا نام تبدیل کرنے سے نہ اس کی مسافت کم ہوتی ہے اور نہ ہی کلومیٹر گھٹتے ہیں۔ حکومتوں کو نام تبدیل کرنے کی سیاست کے بجائے ترقی، روزگار، تعلیم اور عوامی سہولتوں پر توجہ دینی چاہیے۔
لاؤڈ اسپیکر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے مولانا کلب رشید نے کہا کہ اگر کہیں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال مقررہ قوانین کے خلاف رات 10 بجے کے بعد تیز آواز میں کیا جارہا ہے اور اس سے مریضوں، بچوں یا آس پاس رہنے والے لوگوں کو پریشانی ہورہی ہے تو عوامی مفاد میں انتظامیہ کو کارروائی کرنی چاہیے۔ تاہم کسی فرد، تنظیم یا مخصوص طبقے کو نشانہ بناکر کارروائی کرنا درست نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر کوئی مذہبی ضرورت نہیں بلکہ ایک سہولت ہے اور اس کے استعمال کے حوالے سے تمام لوگوں کو مقررہ ضابطوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر تنازع پیدا کرنے کے بجائے لوگوں کو اس کے مناسب اور ذمہ دارانہ استعمال کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے۔
تین ممالک کے مبینہ معاہدے اور مکہ مکرمہ کی سلامتی سے متعلق سوال پر مولانا کلب رشید نے کہا کہ ایسے معاملات کو صرف مذہبی نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے ان کے سیاسی اور سفارتی پہلوؤں کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہا اگر آپ اس معاہدہ کو سنجیدیگی سے دیکھیںگے تو پائیں گے کہ مکہ کی حفاظت فل الوقت اسرائیل کے ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور معاشرے کے حقیقی مسائل پر سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے اور سیاست میں مذہب کے استعمال کے بجائے عوامی مفاد، ترقی، تعلیم اور روزگار کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ