لکشمن ہاکے کا منوج جرانگے کو جواب، کنبی سرٹیفکیٹس پر او بی سی ریزرویشن متاثر ہونے کا الزام
جرانگے کے الزامات پر شدید تنقید، او بی سی ریزرویشن کی صورتحال پر وزیراعلیٰ سے وضاحت کا مطالبہشولاپور ، 10 اگست (ہ س)۔ کنبی سماج کو او بی سی ریزرویشن کا فائدہ دینے کے معاملے پر مہاراشٹر میں سیاسی اور سماجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ مراٹھا ر
LAXMAN HAKE HITS BACK AT JARANGE OVER KUNBI RESERVATION


جرانگے کے الزامات پر شدید تنقید، او بی سی ریزرویشن کی صورتحال پر وزیراعلیٰ سے وضاحت کا مطالبہشولاپور ، 10 اگست (ہ س)۔ کنبی سماج کو او بی سی ریزرویشن کا فائدہ دینے کے معاملے پر مہاراشٹر میں سیاسی اور سماجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ مراٹھا ریزرویشن تحریک کے رہنما منوج جرانگے پاٹل کی جانب سے دوبارہ بھوک ہڑتال کے اعلان اور مغربی مہاراشٹر کے دورے کے دوران وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور وزیر محصولات چندرشیکھر باونکولے پر تنقید کے بعد او بی سی رہنما لکشمن ہاکے نے شولا پور میں پریس کانفرنس کرکے انہیں جواب دیا۔اہلیہ دیوی ہولکر کے مجسمے پر گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہاکے نے رکن اسمبلی پرساد لاڈ کے ساتھ ریاستی حکومت اور منوج جرانگے کے موقف پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں او بی سی ریزرویشن ختم ہوا ہے یا نہیں، اس کی وضاحت وزیر اعلیٰ کو کرنی چاہیے۔ہاکے نے الزام عائد کیا کہ منوج جرنگے ریاست بھر میں ذات کی جانچ کرنے والی کمیٹی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کا رویہ وزیر محصولات کے عہدے کو نظر انداز کرنے اور دباؤ کی زبان استعمال کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمران طبقے میں او بی سی سماج سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں افراد منتخب ہوکر آئے ہیں، لیکن اصل او بی سی کہاں ہیں، یہ سوال اہم ہے۔ ہاکے نے الزام لگایا کہ مراٹھا اور کنبی سماج کے سرٹیفکیٹ جاری ہونے سے او بی سی کے لیے مختص نشستوں اور مواقع متاثر ہورہے ہیں۔کنبی سرٹیفکیٹس کے معاملے پر ہاکے نے کہا کہ بعض سرٹیفکیٹ منسوخ کیے جانے کے بعد منوج جرانگے نے جارحانہ موقف اختیار کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور وزیر محصولات کے خلاف استعمال کی جانے والی زبان پر بھی اعتراض کیا۔ہاکے نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ کے بارے میں قابل اعتراض زبان استعمال کی جارہی ہے اور وزیر محصولات کے جسمانی عارضے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ریاست کے ترقی پسند لوگ کہاں ہیں اور کیا ایسا رویہ ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کے مترادف نہیں ہے۔نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے خلاف منوج جرانگے کی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے ہاکے نے کہا کہ مہاراشٹر نے آترے اور ٹھاکرے کی سیاسی زبان دیکھی ہے، لیکن جرنگے کے بیانات سے سیاست میں ایک مختلف نوعیت کی زبان سامنے آئی ہے۔ہاکے نے وزیر رادھاکرشن وکھے پاٹل اور ادے سامنت سے بھی سوال کیا کہ وہ منوج جرنگے سے کتنی بار ملاقات کرنے جائیں گے۔ انہوں نے رکن اسمبلی شیراسٹ کے فون کالز کا حوالہ دیتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا ریاست میں تمام سیاسی رہنماؤں کے لیے یکساں سیاسی اصول لاگو ہوتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande