طلباءتحریک کے نام پر بی جے پی نے انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو حکومت سختی سے نمٹے گی: سودویہ کمار سونو
رانچی، 10 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر سودویہ کمار سونو نے پیر کو اسمبلی میں کہا کہ طلباءتحریک کے نام پر اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) انتشار پھیلانے کی کوشش کرے گی تو ریاستی حکومت اس سے سختی سے نمٹے گی۔ انہوں نے بی جے پی پر طل
طلباءتحریک کے نام پر بی جے پی نے انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو حکومت سختی سے نمٹے گی: سودویہ کمار سونو


رانچی، 10 اگست (ہ س)۔

جھارکھنڈ کے اعلیٰ تعلیم کے وزیر سودویہ کمار سونو نے پیر کو اسمبلی میں کہا کہ طلباءتحریک کے نام پر اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) انتشار پھیلانے کی کوشش کرے گی تو ریاستی حکومت اس سے سختی سے نمٹے گی۔ انہوں نے بی جے پی پر طلبہ تحریک کو ہائی جیک کرنے اور تحریک کو لٹکانے اور بھٹکانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔

وزیر اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوران رکن اسمبلی ار±وپ چٹرجی کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ ارُوپ چٹرجی نے کہا کہ حکومت طلبہ کے تقریباً 98 فیصد مطالبات تسلیم کر چکی ہے۔ ایسے میں طلبہ کے ایک دو باقی مطالبات تسلیم کرکے حکومت کو تحریک ختم کرانے کی سمت میں پہل کرنی چاہیے۔

اس کے جواب میں سودویہ کمار سونو نے کہا کہ حکومت طلبہ کے مسائل کا حل نکالنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ سے ایک بار پھر تحریک کا راستہ چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کی۔ ساتھ ہی الزام لگایا کہ بی جے پی طلبہ کی تحریک کو اپنے سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیر نے ایوان کو بتایا کہ طلباءکی تحریک بنیادی طور پر 14ویں جے پی ایس سی ابتدائی امتحان (پی ٹی) میں مبینہ گڑبڑی کو لے کر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری سی آئی ڈی کو سونپی ہے۔ اس معاملے میں اب تک 19 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور کچھ ڈیجیٹل شواہد بھی جمع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ کے بنیادی طور پر تین مطالبات ہیں۔ ان میں امتحان میں ہوئی مبینہ گڑبڑی کی تحقیقات، امتحان منسوخ کرنا اور مستقبل میں امتحانات منعقد کرنے کے طریقہ کار میں اصلاح کرنا شامل ہے۔

وزیر نے کہا کہ جے پی ایس سی امتحان میں ہوئی مبینہ گڑبڑی سے متعلق مجرمانہ معاملات کی تحقیقات کی جائیں گی۔ حکومت اس معاملے میں حقائق کی بنیاد پر کارروائی کر رہی ہے۔

سودویہ کمار سونو نے کہا کہ طلبہ نے ایجنسی ٹی ڈی پی ایل کی جانب سے منعقد کیے گئے امتحانات کی بھی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کچھ امتحانات کے نتائج پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں حکومت نے طلبہ کو ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیر نے کہا کہ حکومت طلبہ کی تحریک کا حل نکالنے کے لیے سنجیدہ ہے اور ان کے مطالبات پر بات چیت کے ذریعے راستہ نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی تحریک ختم کرانے کے بجائے اسے لٹکانے اور بھٹکانے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت طلباءکے جائز مطالبات پر غور کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن طلبہ تحریک کے نام پر سیاسی مداخلت یا انتشار کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ بات چیت کے ذریعے اپنے مسائل کا حل نکالنے کے لیے آگے آئیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande