مرکز کی چار رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تین روزہ دورے پر جموں پہنچی
جموں, 10 اگست (ہ س): ملک کے مختلف علاقوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی چار رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی پیر کو تین روزہ دورے پر جموں پہنچ گئی۔ کمیٹی اپنے دورے کے دوران مختلف علاقوں کا جائزہ لینے کے علاوہ اع
مرکز کی چار رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تین روزہ دورے پر جموں پہنچی


جموں, 10 اگست (ہ س): ملک کے مختلف علاقوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی چار رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی پیر کو تین روزہ دورے پر جموں پہنچ گئی۔ کمیٹی اپنے دورے کے دوران مختلف علاقوں کا جائزہ لینے کے علاوہ اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرکے آبادیاتی صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کرے گی۔کمیٹی کی جموں آمد کے بعد چیف سکریٹری اٹل ڈلو اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات نے ایک ہوٹل میں کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کی آبادیاتی صورتحال اور گزشتہ برسوں کے دوران آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق تفصیلی پریزنٹیشن بھی دی گئی۔

مرکزی حکومت نے رواں سال مئی میں ریٹائرڈ جسٹس پرکاش پربھاکر ناولیکر کی سربراہی میں اس کمیٹی کی تشکیل کی تھی۔ کمیٹی کو غیر قانونی ہجرت اور دیگر غیر معمولی وجوہات کے باعث ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے اور ان سے نمٹنے کے لیے اقدامات تجویز کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

کمیٹی میں مردم شماری کمشنر کے علاوہ ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر درگا شنکر مشرا، ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر بالاجی سری واستوا اور شمیکا روی شامل ہیں، جبکہ وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری (فارنرز ) کمیٹی کے رکن سکریٹری ہیں۔

حکام کے مطابق کمیٹی 12 اگست تک جموں میں مختلف ملاقاتیں اور سرگرمیاں انجام دے گی۔ اس دوران جموں کے متعدد علاقوں کا دورہ بھی کیا جائے گا، جن میں روہنگیا اور بنگلہ دیشی تارکین وطن کی آبادی والے علاقے شامل ہیں۔ کمیٹی بین الاقوامی سرحد سے متصل حساس علاقوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لے گی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں اور سانبہ اضلاع میں روہنگیا مسلمانوں اور بنگلہ دیشی شہریوں سمیت 13,700 سے زائد غیر ملکی مقیم ہیں، جبکہ 2008 سے 2016 کے دوران ان کی تعداد میں 6,000 سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مارچ 2021 میں پولیس نے جموں شہر میں تصدیقی مہم کے دوران 270 سے زائد روہنگیا افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے،ُان کو غیر قانونی طور پر مقیم پایا تھا۔ بعد ازاں انہیں کٹھوعہ سب جیل میں قائم ہولڈنگ سینٹر منتقل کیا گیا تھا۔

غیر قانونی غیر ملکی تارکین وطن کی موجودگی کا معاملہ ماضی میں بھی سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے اٹھایا جاتا رہا ہے۔ مختلف حلقوں نے قومی سلامتی، آبادیاتی تبدیلیوں اور مقامی وسائل پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے پیش نظر غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی نشاندہی اور انہیں ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande