
راہل گاندھی بولے- پہلے بتائیں گولی چلانے کی اجازت کس نے دی؟
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے دہلی میں طلبہ اور نوجوانوں کے خلاف کی گئی مبینہ کارروائی کے معاملے میں وزیر داخلہ امیت شاہ سے پارلیمنٹ میں جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ وزیر داخلہ پہلے یہ بتائیں کہ دہلی میں طلبہ پر گولی چلانے کی اجازت کس نے دی، یا انہیں اس کی اطلاع تھی یا نہیں۔ اس کے بعد ہی آگے کچھ ممکن ہوگا۔
کانگریس کے نئے ہیڈکوارٹر میں پیر کو پریس کانفرنس میں کھرگے نے کہا کہ دہلی میں طلبہ اور نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا گیا، آنسو گیس کے گولے داغے گئے اور پیلٹ گن اور الیکٹرک شاک بیٹن کا استعمال کیا گیا۔ اپوزیشن مسلسل اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھا رہی ہے، لیکن وزیر داخلہ نے اب تک اس پر جواب نہیں دیا ہے۔
کھرگے نے حکومت سے تین مطالبات کیے۔ پہلا، وزیر داخلہ امت شاہ طلباءاور نوجوانوں کے خلاف کی گئی کارروائی پر پارلیمنٹ میں جواب دیں۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ اس طرح کی کارروائی کیوں کی گئی۔
انہوں نے دوسرا مطالبہ کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے منتخب لوگوں نے رام مندر ٹرسٹ میں ’چڑھاوا چوری‘ کی ہے۔ وزیراعظم کو اس معاملے میں صورتحال واضح کرنی چاہیے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
کھرگے نے تیسرا مطالبہ کیا کہ رام مندر کروڑوں ہندوستانیوں کی عقیدت سے جڑا ہوا ہے اور اس معاملے میں وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کی عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ طلباءپر کارروائی اور رام مندر کے چڑھاوے سے متعلق معاملے پر حکومت کو جواب دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ طلباءپر ہوئی کارروائی کے معاملے میں ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں واضح کریں کہ دہلی میں طلبہ پر گولی چلانے کی اجازت کس نے دی۔ وزیر داخلہ امت شاہ کو بتانا چاہیے کہ انہوں نے کارروائی کا حکم دیا تھا یا انہیں اس کی اطلاع نہیں تھی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو طلبہ کے ساتھ پیش آئے واقعے پر معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے رام مندر کے چڑھاوے سے متعلق معاملے پر بھی حکومت سے جواب طلب کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان معاملات پر حکومت کی جانب سے واضح جواب ملنے کے بعد ہی مزید بحث کا راستہ صاف ہوگا۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ گزشتہ 15 دنوں سے وزیراعظم اور وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر اپوزیشن کا سامنا کرنے سے بچ رہے ہیں۔
راہل گاندھی نے جھارکھنڈ میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کو بھی غلط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلباءکو پرامن احتجاج کا حق ہے اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے جھارکھنڈ حکومت سے طلبہ کی بات سننے اور ان کے مسائل کا فوری حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ