آسام-اروناچل سرحدی تنازع تقریباً حل ہو گیا: وزیراعلیٰ
گوہاٹی، 10 اگست (ہ س)۔ آسام کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما نے پیر کو کہا کہ دھیمجی ضلع میں آسام اور اروناچل پردیش کے لوگوں کے درمیان ہوا تصادم ”تقریباً حل ہو گیا ہے۔“ یہ تصادم فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد ہوا تھا، جس میں کئی افراد زخمی ہوئے تھے
آسام-اروناچل سرحدی تنازع تقریباً حل ہو گیا: وزیراعلیٰ


گوہاٹی، 10 اگست (ہ س)۔

آسام کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما نے پیر کو کہا کہ دھیمجی ضلع میں آسام اور اروناچل پردیش کے لوگوں کے درمیان ہوا تصادم ”تقریباً حل ہو گیا ہے۔“ یہ تصادم فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد ہوا تھا، جس میں کئی افراد زخمی ہوئے تھے اور بین الریاستی سرحد پر کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

ڈاکٹر ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ آسام حکومت نے صورتحال کو قابو میں کرنے اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے ایک وزیر، چیف سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو اروناچل پردیش میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کے لیے بھیجا ہے۔

آسام-اروناچل پردیش سرحد پر واقع منگ مانگ بستی میں تصادم کے دوران اروناچل پردیش کی جانب سے نامعلوم افراد کی مبینہ فائرنگ میں تقریباً 18 افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے چار کی حالت نازک ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ زمین پر مبینہ قبضے کے سلسلے میں ہوئے تنازع کے بعد پیش آیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی اسپتالوں میں لے جایا گیا۔ بعد میں شدید زخمی چار افراد کو ڈبرو گڑھ کے آسام میڈیکل کالج اور اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

یہ تازہ تصادم اروناچل پردیش کے لوئر سیانگ ضلع، جو آسام کے دھیمجی ضلع سے متصل ہے، میں کانگکو سرکل کے قریب مِسنگ برادری کے ایک نوجوان کو مبینہ طور پر گولی مارے جانے کے واقعے کے بعد ہوا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق نوجوان لاپتہ ہو گیا تھا اور بعد میں اس کی ٹانگ میں چوٹ لگی ہوئی حالت میں ملا۔ مبینہ طور پر اسے گولی مارنے والے شخص کی شناخت اور واقعے سے متعلق حالات کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

فائرنگ کے اس واقعے کے بعد آسام کے دھیماجی اور اروناچل پردیش کے لوئر سیانگ کے رہنے والوں کے درمیان تصادم ہوا، جس سے سرحدی علاقے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔ اطلاعات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ان واقعات کے بعد مِسنگ اور گالو برادریوں کے ارکان کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

آسام حکومت نے صورتحال کو سنبھالنے اور سرحد پر امن بحال کرنے کے لیے اروناچل پردیش کے حکام کے ساتھ رابطہ شروع کر دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande