’ساؤتھ ایشیا جسٹس کمپین‘ کی رپورٹ کے حوالے سے ملّی کونسل کو غیرمعمولی تشویش
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س )۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے تئیں حکومت اور دائیں بازو کی تنظیموں کا رول بڑا غیرمنصفانہ ہے۔ اس حوالے سے مختلف فکری حلقوں، سیاسی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی آراءمسلسل آرہی ہیں۔ انہی میں سے ”ساؤتھ ایشیا جسٹس کمپین“ ن
’ساؤتھ ایشیا جسٹس کمپین‘ کی رپورٹ کے حوالے سے ملّی کونسل کو غیرمعمولی تشویش


نئی دہلی، 10 اگست (ہ س )۔

ہندوستان میں مسلمانوں کے تئیں حکومت اور دائیں بازو کی تنظیموں کا رول بڑا غیرمنصفانہ ہے۔ اس حوالے سے مختلف فکری حلقوں، سیاسی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی آراءمسلسل آرہی ہیں۔ انہی میں سے ”ساؤتھ ایشیا جسٹس کمپین“ نامی حقوق انسانی کے ایک ادارہ نے اپنی دستاویز کاری کے ذریعہ اس ملک کے اندر انسانی حقوق، جمہوریت اور اس کی تنوعات پر اپنی سہ ماہی رپورٹ (مئی 2026 تا 31/ جولائی 2026) پیش کی ہے، جسے ”انڈیا پر سیکیوشن ٹریکر“ نامی سہ ماہی بلیٹن نے شائع کیا ہے جو کئی لحاظ سے آنکھیں کھولنے والی ہیں۔

آل انڈیا ملّی کونسل کے مرکزی دفتر سے جاری پریس بیان میں کارگزار صدر، مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے ردّعمل کا اظہار کرتے ہوئے انتہائی تشویش واضطراب کے ساتھ کہا ہے کہ یہ عجیب بات ہے کہ صرف ماورائے عدالت قتل (Extrajudicial Killings)کے 15/ واقعات ہوئے ہیں جو بہت تکلیف دہ ہے۔ ہندو شدت پسندوں کے ذریعہ پانچ ریاستوں میں 25/ سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ 11/ ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف جو زیادتیاں ہوئی ہیں، انھیں اس رپورٹ میں ڈاکومنٹ کیا گیا ہے۔

مولانا انیس الرحمن قاسمی نے آگے کہا کہ پانچ ریاستوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی وجہ سے مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا ہے، خصوصاً مغربی بنگال میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد، بجنور میں 48/ سے زائد مسلمانوں پر فوجداری مقدمات دائر کیے گئے، ان کا قصور بس یہ تھا کہ انھوں نے ایک سڑک پر بحالت مجبوری نماز پڑھ لی۔ اسی طرح سنبھل، اترپردیش میں ”آئی لو محمد“ کے پوسٹر لگانے پر مسلمانوں پر بڑے مظالم ڈھائے گئے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ تحفظ گائے کے نام پر وہاں 6/ سے زائد مسلمان خواتین کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی طرح 2500/ سے زائد کشمیریوں کو محض ایک عسکریت پسند حملہ کے نام پر گرفتار کیا گیا جو انتہائی غیرمنصفانہ عمل تھا۔

اسی طرح کولکاتہ پروٹسٹ کے موقع پر 13/ افراد کو گرفتار کیا گیا، جس میں مسلمان ہونے کی شناخت کی بنیاد پر ایسا کیا گیا۔ ایس آئی آر کے نام پر 6/ کروڑ سے زائد لوگوں کے نام ووٹر لسٹوں سے حذف کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ مسلمان متاثر ہوئے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ آسام کی ریاستی حکومت نے بنگلہ دیشیوں کے نام پر وہاں کے مسلمانوں کو بڑی تعداد میں مغربی بنگال کی طرف ڈھکیل دیا، اور پھر مغربی بنگال کی نئی نویلی حکومت نے اس طرح زبردستی 4800/ مسلمانوں کو بنگلہ دیش کی طرف جلاوطن کر دیا۔ رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 8/ صوبوں میں ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کے گھروں، دکانوں، ان کے مذہبی عبادت گاہوں وتجارت کو مسمار کر دیا گیا۔

حکومت اتراکھنڈ کے ذریعہ الحاق شدہ مدارس کی اسٹیٹ فنڈنگ روک دی گئی۔ 4/ بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں یونیفارم سول کوڈ کے مجوزہ قانون کے تحت مسلم پرسنل لاءکو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ آسام اور مدھیہ پردیش کی حکومتوں نے اسی سہ ماہی میں اسے نافذ بھی کر دیا۔ مجموعی طور پر مئی سے جولائی کے تین مہینوں کے دورانیے میں تین ہزار واقعات ہوچکے ہیں۔ مئی - جون 2026 کے مہینے کے دوران 23/ سے زیادہ مذہبی مقامات کو مسمار کر دیا گیا، جس میں مساجد، مدارس اور خانقاہیں شامل ہیں۔

کارگزار صدر کونسل نے یہ بھی کہا کہ وزرائے اعلیٰ، کابینی وزراءاور درجنوں کی تعداد میں بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ، ممبران اسمبلی کے منافرت آمیز بیانات کا ایک تسلسل ہے، جس پر موجودہ مرکزی حکومت خموش تماشائی ہی نہیں بلکہ مجرمانہ انداز میں حقائق کو چھپانے کی روش پر گامزن ہے۔ لہٰذا تمام انصاف پسند سماج، مسلم وغیرمسلم دانشوران اور ملک کے ارباب حل وعقد کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ ان معاملات پر سرجوڑ کر آگے کا لائحہ عمل بنائیں، تاکہ ان کے مظالم اور مجرمانہ خموشی پر بندھ لگانا آسان ہوسکے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande