اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان چار بل پیش، ٹریبونل اصلاحات بل لوک سبھا سے منظور
نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔ لوک سبھا میں پیر کو اپوزیشن کے ہنگامے اور نعرے بازی کے درمیان چار اہم بل پیش کیے گئے۔ ان میں سے ٹریبونل اصلاحات بل، 2026 کو ایوان نے منظور کر لیا۔ اس کے علاوہ کانکنی و معدنیات (ترقی و ضابطہ) ترمیمی بل، 2026، کیرالہ (نام ک
اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان چار بل پیش، ٹریبونل اصلاحات بل لوک سبھا سے منظور


نئی دہلی، 10 اگست (ہ س)۔

لوک سبھا میں پیر کو اپوزیشن کے ہنگامے اور نعرے بازی کے درمیان چار اہم بل پیش کیے گئے۔ ان میں سے ٹریبونل اصلاحات بل، 2026 کو ایوان نے منظور کر لیا۔ اس کے علاوہ کانکنی و معدنیات (ترقی و ضابطہ) ترمیمی بل، 2026، کیرالہ (نام کی تبدیلی) بل، 2026 اور نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ترمیمی) بل، 2026 پیش کیے گئے۔

قانون و انصاف کے وزیر ارجن رام میگھوال نے ٹریبونل اصلاحات بل پیش کیا۔ بل میں ملک کے مختلف ٹریبونلز کے کام کاج میں یکسانیت لانے، ان کی آزادی، شفافیت اور جواب دہی کو مضبوط بنانے اور چیئرمینوں و ارکان کی تقرری اور سروس کی شرائط کے لیے یکساں نظام قائم کرنے کی غرض سے نیشنل ٹریبونل کمیشن تشکیل دینے کی تجویز ہے۔

بل کے مطابق کمیشن ٹریبونلز کے چیئرمینوں اور ارکان کی تقرری، ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور ان کے خلاف شکایات کی جانچ سے متعلق کام کرے گا۔ اس میں چیئرمین اور ارکان کی اہلیت، انتخاب، تقرری، تنخواہ، سروس کی شرائط اور عہدے سے ہٹانے کے طریقہ کار کے لیے بھی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مرکزی وزیر کانکنی جی کشن ریڈی نے کانکنی و معدنیات (ترقی و ضابطہ) ترمیمی بل پیش کیا۔ اس میں معدنی حقوق، ٹیکس عائد کرنے اور معدنیات کی تلاش سے متعلق موجودہ دفعات میں تبدیلی اور بعض معاملات میں مرکز کی منظوری سے متعلق دفعات کی تجویز ہے۔ اپوزیشن رکن این کے پریم چندرن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے وفاقی ڈھانچے کے خلاف قرار دیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کیرالہ (نام کی تبدیلی) بل پیش کیا۔ اس میں آئین کی پہلی فہرست میں ریاست کا نام ’کیرالہ‘ سے تبدیل کرکے ’کیرالم‘ کرنے کی تجویز ہے۔ یہ تجویز کیرالہ اسمبلی کی 24 جون 2024 کی متفقہ قرارداد پر مبنی ہے۔

وزیر مملکت برائے تعاون مرلی دھر موہول نے نیشنل کوآپریٹو ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ترمیمی) بل پیش کیا۔ اس میں این سی ڈی سی کے مالی اختیارات اور دائرہ کار کو وسعت دینے اور کوآپریٹو شعبے کو وسیع مالی مدد فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

اس دوران اپوزیشن ارکان کے ہنگامے کے باعث لوک سبھا کی کارروائی پہلے دوپہر 12 بجے تک اور پھر دوپہر دو بجے تک ملتوی کی گئی۔ ہنگامہ جاری رہنے کے بعد ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande