یوکرین پر امریکی اقدامات پرروس کی نظر : کریملن
ماسکو، 09 جولائی (ہ س)۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں اپنے اختلافات کے باوجود تعمیری بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوتن ٹرمپ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہی
روس


ماسکو، 09 جولائی (ہ س)۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں اپنے اختلافات کے باوجود تعمیری بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوتن ٹرمپ کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم پیسکوف نے واضح کیا کہ 8 جولائی کو دونوں رہنماوں کے درمیان ٹیلی فون پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

یوکرین کے اوپر ممکنہ نو فلائی زون کے بارے میں ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پیسکوف نے کہا کہ اس موضوع پر پہلے کبھی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نئی تجویز ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پیسکوف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس نیٹو ممالک کی مخالفت کرے گا اگر ان کی افواج یوکرین کی سرزمین پر سرگرم ہوتی ہیںاور یہی اس کی خصوصی فوجی کارروائی کی ایک اہم وجہ ہے۔

پیسکوف نے یہ بھی کہا کہ ماسکو اس بات کو مدنظر رکھتا ہے کہ امریکہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود روس کا خیال ہے کہ واشنگٹن بھی امن عمل میں کسی نہ کسی طرح سے تعاون کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے تمام بیانات کا اندازہ اسی نقطہ نظر سے لگایا جاتا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روس کو امریکی انتظامیہ میں ایک غلط فہمی نظر آتی ہے کہ تنازعہ میں مزید اضافہ حل کا باعث بنے گا۔ ان کے مطابق، کشیدگی میں اضافے سے امن عمل کو فائدہ نہیں پہنچے گا لیکن تنازعہ کو طول مل سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ یوکرین کے بحران کے پرامن حل کے لیے فعال کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو روس یوکرین میں ایک بڑا بفر زون بنانے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande