
تہران، 09 جولائی (ہ س): ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جمعرات کی صبح امریکی حملے میں ایران کو چین اور روس سے جوڑنے والا اوگتے خان ریلوے پل نقصان کا شکار ہو گیا۔ یہ پل چین۔ترکمانستان۔ایران بین الاقوامی ریلوے راہداری کا اہم حصہ ہے، جسے علاقائی تجارت اور مال برداری کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایران نے ان حملوں کو اقوام متحدہ کے منشور اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام نے بتایا کہ یہ پل بین الاقوامی چین۔قازقستان۔ترکمانستان۔انچہ برون ریلوے راہداری پر واقع ہے، جو ایران کی شمال مشرقی سرحد سے داخل ہو کر گورگان کو تہران سے جوڑتی ہے۔ یہ راستہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کا حصہ ہے، جو چینی شہر شی آن کو ایران کے دارالحکومت تہران سے ملاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس راستے سے چین اور روس کے ساتھ مال برداری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث اس حملے کو تزویراتی اعتبار سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس اس راہداری کے ذریعے چین سے ایران تک کم از کم 65 مال بردار ٹرینیں چلائی گئیں۔ اپریل میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر مبینہ غیر قانونی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد ریلوے مال برداری میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس نے 2025 کے اختتام پر اسی راستے سے ایران کو سامان بھیجنا شروع کیا تھا، جس کے بعد تجزیہ کاروں نے اس حملے کو محض ایک روایتی فوجی کارروائی کے بجائے کہیں زیادہ سنگین قرار دیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے اس کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے سنگین جنگی جرم اور اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2(4) کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ وزارت نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے منافی ہے اور ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
ایران نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران امریکہ نے ملک کے مختلف علاقوں میں فوجی حملے کیے، جو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ تہران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی حکام کے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ معاہدے سے پیچھے ہٹنے کے لیے بہانے تراش رہا ہے۔
اس سے قبل ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی اور ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو نے بھی اپنی رپورٹس میں کہا تھا کہ امریکی حملے کے باعث تہران۔مشہد ریلوے روٹ پر مسافر ٹرین خدمات متاثر ہوئی ہیں۔ فی الحال تہران اور مشہد کے درمیان مسافر ٹرین سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ ایران کے محکمہ ریلوے کے مطابق متاثرہ حصے کی مرمت کے لیے ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں، جبکہ پھنسے ہوئے مسافروں کو سڑک کے ذریعے ان کی منزل تک پہنچانے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا کہ ایران کے خلاف اضافی فوجی کارروائی کا مقصد تہران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے، جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں سمندری آمد و رفت کی آزادی کے لیے خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔
ادھر ایران کی وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران امریکی حملوں میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 78 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ریلوے لائن پر حملے کے باعث تہران۔مشہد ریلوے روٹ پر مسافر ٹرین خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد